Skip to main content
نعت

زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا

By September 7, 2021No Comments

زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا

مصیبت میں جو کام آئے گنہگاروں کو بخشائے
وہ اک فخرِ رُسُل محبوبِ رب العالمیں دیکھا

بنایا جس نے بگڑوں کو سنبھالا جس نے گرتوں کو
وہ ہی حَلّال مشکل رحمتُ لِّلعالمیں دیکھا

وہ ہادی جس نےدنیا کو خدا والا بنا ڈالا
دلوں کو جس نے چمکایا عرب کا مہ جبیں دیکھا

بسے جو فرش پر اور عرش تک اس کی حکومت ہو
وہ سلطانِ جہاں طیبہ کا اک ناقہ نشین دیکھا

وہ آقا جو کہ خود کھائے کھجوریں اور غلاموں کو
کھلائے نعمتیں دنیا کی کب ایسا کہیں دیکھا

بھلا عالم سی شے مخفی رہے اس چشمِ حق بیں سے
کہ جس نے خالقِ عالم کو بے شک بالیقیں دیکھا

مسلمانی کا دعویٰ اور پھر توہین سرور کی
زمانہ کیا زمانے بھر میں کب ایسا لعیں دیکھا

ہو لب پر امتی جس کے کہیں جب انبیاء نفسی
دو عالم نے اُسے ساؔلک شفیع المذنبین دیکھا