Skip to main content

(منقبتِ شیرِ خدا حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

وہ علی شیرِ خدا ،جن کا بیاں باغِ ہدی ،جن کی نگہ نورِ خدا ،جن کی زباں صدق بیاں،جن کی ہر اک طرزِ ادا سنتِ سرکار

وہ ہیں اک نعمتِ غفار، عطاۓ شہِ ابرار ،شجاعت کے علمدار، وہ ہیں باغِ ولایت کےطرفدار ،علی سے ہے ہمیں پیار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

ان کی کعبے میں ولادت ،ہوئ مسجد میں شہادت ،یہ ہے کتنی بڑی عظمت،کہ ہر اک دل بسی ان کی محبت ،یہ ہے فضلِ شہِ کونین

ان کی خدمات سے ہے علم کے باغات میں ، ایمان کی سوغات میں ،اسلام کے ایوان میں ،دامان میں، اک فصلِ بہار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

وہ علی ، میرے علی پیارے علی ،سچے علی ،اچھے علی ،جن کو مِرے آقا کی ،بیٹی ہے ملی ،جن کو جہاں کہنے لگا حیدرِ کرار

علم کے باب ہیں ،اصحاب میں شاداب ہیں ،وہ تحفۂ سرکار ہیں ،دنیاۓ محبت میں ضیابار ہیں اسلامی چمن کی ہیں بہار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

وہ ہوۓ فاتح خیبر، مِرے سرکار کے دلبر،پدرِ سبط پیمبر ، ہوئے سب ولیوں کے سرور،وہ ہوۓ گلشنِ اصحاب کے گلزار

ان کی بے مثل شجاعت پہ ہے صدیق کو بھی ناز ،صحابہ میں ہوۓ کتنے وہ ممتاز ،مِری ٹوٹی زباں سے نہیں ہو سکتا یہ اظہار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار ⚡

جب لیا نامِ علی ،مشکلیں سب دور ہوئ ، دل کی کلی کھِلنے لگی ، حالتِ مضطر میں ملا چین و قرار

ہر قدم پہ ہے مجھے ان کا سہارا ، میرا ہر کام ہے بنتا ، انہیں کے دم سے مہکتا ہے مِرا آج یہ کردار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

قلب میں جذبۂِ ایمان لیۓ مشعلِ صدیق لیۓ جرأتِ فاروق لیۓ الفتِ عثمان لیۓ مولا نے

حکمِ سرکار سے دروازۂِ خیبر کو اکھاڑا کہیں مرحب کے تکبر کو بھی مٹی میں ملایا وہ بنے دین کی تلوار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار ⚡

بہرِ گستاخ وو تلوارِ خدا ، خنجرِ محبوبِ خدا ،
ان کے علی نام سے لرزہ ہیں ابھی تک سبھی اَیوانِ عدو
کل بھی تھا نامِ علی ،آج بھی ہے نام علی، حشر تلک گونجے گی اس نامِ علی کی جہاں میں ہر سو پکار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

وہ کہاں شیرِ خدا جانِ وفا ، نورِ نبی شانِ ولی، بہرِ شقی ،قہرِ جلی
اور کہاں ادنیٰ قلم ہے مِرا تفسیر رضا

مدحتِ مولی علی کیسے کروں ، کیا کیا لکھوں، شانِ علی ہے مری حد سے بھی فزوں، بس یوں ہی میں ذکرِ علی کرتا رہوں، لیل و نہار

⚡حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار⚡

تفسیر رضا امجدی