محمد مصطفیٰ نورِ خدا نامِ خدا تم ہوشَہِ خَیْرُالْوَریٰ شانِ خدا صَلِّ عَلٰی تم ہو
شکیبِ دل قرارِ جاں محمد مصطفی تم ہوطبیبِ دردِ دل تم ہو مِرے دل کی دوا تم ہو
غریبوں درد مندوں کی دوا تم ہو دعا تم ہوفقیروں بے نواؤں کی صدا تم ہو نِدا تم ہو
حبیبِ کبریا تم ہو اِمَامُ الْاَنْبِیَآء تم ہومحمد مصطفیٰ تم ہو محمد مجتبیٰ تم ہو
ہمارے ملجا و ماوا ہمارا آسرا تم ہوٹھکانہ بے ٹھکانوں کا شَہِ ہر دوسرا تم ہو
غریبوں کی مدد بے بس کا بس رُوْحِیْ فِدَا تم ہوسہارا بے سہاروں کا ہمارا آسرا تم ہو
نہ کوئی ماہ وَش تم سا نہ کوئی مہ جبیں تم ساحسینوں میں ہو تم ایسے کہ محبوبِ خدا تم ہو
میں صدقے انبیا کے یوں تو محبوب ہیں، لیکنجو سب پیاروں سے پیارا ہے وہ محبوبِ خدا تم ہو
حسینوں میں تمھیں تم ہو نبیوں میں تمھیں تم ہوکہ محبوبِ خدا تم ہو نَبِیُّ الْاَنْبِیَآء تم ہو
تمھارے حُسنِ رنگیں کی جھلک ہے سب حسینوں میںبہاروں کی بہاروں میں بہارِ جاں فزا تم ہو
زمیں میں ہے چمک کس کی فلک پر ہے جھلک کس کیمہ (و) خورشید، سیّاروں، ستاروں کی ضیا تم ہو
وہ لاثانی ہو تم آقا نہیں ثانی کوئی جس کااگر ہے دوسرا کوئی تو اپنا دوسرا تم ہو
ھُوَالْاَوَّل ھُوَالْاٰخِر ھُوَالظَّاھِر ھُوَالْبَاطِنبِکُلِّ شَیْء عَلِیْم لوحِ محفوظِ خدا تم ہو
نہ ہو سکتے ہیں دو اوّل، نہ ہو سکتے ہیں دو آخرتم اوّل اور آخر، ابتداء تم انتہا تم ہو
خدا کہتے نہیں بنتی جدا کہتے نہیں بنتیخدا پر اِس کو چھوڑا ہے وہی جانے کہ کیا تم ہو
اَنَا مِنْ حَامِد و حَامِد رضَا مِنِّی کے جلووں سےبِحَمْدِ اللہ رضا حامد ہیں اور حاؔمد رضا تم ہو
بیاض پاک