بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
تضمین وہ سرورِ کِشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوۓ تھے
فلَک فلَک بام و دَر خوشی سے ملائکہ سب سجا رہے تھےبَٹے تھے حلقوں میں حور و غِلماں لہک کے نغمے اَلاپتے تھےسلامیوں کے اُٹھاۓ پَرچم قدم قدم اَنبیاء کھڑے تھےوہ سرورِ کِشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوۓ تھےنئے نرالے طرَب کے ساماں عرب کے مہمان کے لیے تھےصباحِ نَو کی اذاں مبارک نسیمِ رحمت رساں مبارکگُلوں کو رنگینیاں مبارک چہکتے چہرو اَماں مبارکخزاں سے آزادیاں مبارک حیاتِ خوش جاوِداں مبارکبہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارکملک فلَک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھےسجی تھیں پانچوں ہی قبلہ گاہیں ادا تشکّر کی تھیں نمازیںمظاہرِ کونیہ نگاہیں جماۓ بیٹھے تھے جلوہ دیکھیںیہ شور و غل تھا جو گھر سے نکلیں ثریٰ ثریّا بچھا دیں پلکیںوہاں فلَک پر یہاں زمیں میں رَچی تھی شادی مچی تھیں دھومیںاُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھےاُٹھایا جاتا حجابِ صُوری خدا ہی کہہ دیتے اُن کو قُدسیوہ سرِّ ذاتی حقیقت اُن کی ابھی کمالِ نہاں میں ہی تھیظلالِ رخشندہ پر ٹھہرتی نہ چشمِ اِمکاں میں تاب آئییہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چٹکیوہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھےجمالِ مُطلق کا مل کے غازہ شبابِ تازہ میں چہرہ آیانہا کے آبِ صفا سے اُجلا وجود بوۓ طلب سے مہکاپہن کے اِکرامِ حق کا جوڑا جھکاۓ نظریں حیا سے سِمٹانئی دُلھن کی پَھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھراحجر کے صدقے کمر کے اِک تِل میں رنگ لاکھوں بَناؤ کے تھےاَزل سے تھے خواب جِن کے دیکھے وہ لمحے آۓ سہانی رُت کےوہ خود پہ جانا ہزار صدقے کہ صحنِ جاں میں قدم وہ اُترےجبینِ شوقِ لقا کے سجدے رہِ ہر اِک نقشِ پا میں بکھرےنظر میں دولہا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکاۓسیاہ پردے کے منہ پر آنچل تجلئ ذاتِ بحت سے تھےرخانِ پُرغم تھے مسکراۓ رہی نہ ہجراں کہ ہاۓ ہاۓمزے بہارِ عطا کے پاۓ عنادلِ شوق چہچہاۓخدا نے دِن خیر کے دِکھاۓ کوئی بتاۓ تو کیا بتاۓخوشی کے بادَل اُمَڈ کے آۓ دِلوں کے طاؤس رنگ لاۓوہ نغمۂ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھےجناں سے حوریں مبارکی پر سبوچۂ ساچق آئیں لے کرتجلّیاتِ عَماء کے زیور وہ بخشی اَوج و شرَف کی چادرمغنّیانِ قدُس کے منبر بچھے جو بہرِ ثناۓ سروریہ جھوما میزابِ زَر کا جھومر کہ آ رہا کان پر ڈَھلَک کرپھوہار برسی تو موتی جَھڑ کر حطیم کی گود میں بَھرے تھےسہاگ نسبت کے پہنے گجرے ہزار رُخ پر گرا کے پردےقدم جو دولہا حرم کو اُٹّھے مہکتے مَوجے لہکتے لپٹےعنایتوں کے تھے بادَل اُمڈے ہر ایک گوشے پہ جَم کے برسےدلہن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سےغلافِ مشکیں جو اُڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھےکہیں وہ گل ہاۓ صد ہا رنگیں کہیں تھیں خوش سُر سی تانیں پلٹیںوہ دامنِ کوہ میں مچلتیں خنَک ہوائیں لہکتی گاتیںوہ گرتے جَھرنے وہ چشمے شیریں اے ہم نشیں کیسی وادیاں تھیںپہاڑیوں کا وہ حسنِ تزئیں وہ اُونچی چوٹی وہ ناز و تمکیںصبا سے سبزہ میں لہریں آتیں دوپٹّے دھانی چنے ہوۓ تھےوہ کھرج و رَے ناز و خَم سے نکلا جو تانت باجی تو راگ پایابہاگ گاتے تھے دشت و صحرا مَلار پر رقص کرتی برکھابہارِ عشرت نے اِک تماشا نشاطِ تازہ کا یہ دِکھایانہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رَواں کا پہناکہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھےہر اِک رخِ نجمِ ہم نوا تھا بروجِ اِثنا عَشَر میں چمکابناتِ نعشِ سماء کا مجرا تھے ہفت افلاک رقص فرماتنزّلاتِ صفات و اسماء کیے تھے کچھ اہتمام ایساپرانا پُرداغ ملگجا تھا اُٹھا دیا فرش چاندنی کاہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھےفسانۂ غم کسے سنائیں یہ داغِ ہجراں کسے دِکھائیںبہ اشکِ خونیں جگر بہائیں کہ حشرِ آہِ زَناں اُٹھائیںنشانِ ہست و عدم مٹائیں یہ مشتِ خاک اپنی یوں اُڑائیںغبار بن کر نثار جائیں کہاں ہم اُس رہگزر کو پائیںہمارا دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پَر جہاں بچھے تھےہوئی تھیں اعناقِ شش جہت خَم وراۓ اِمکاں تھا خیر مقدمعقولِ عالم زبانِ ابکم طبائع جملہ سکوتِ پیہمجواہر اعراض مل کے باہم تھے قیدِ حیّز میں محوِ ماتمخدا ہی دے صبر جانِ پُرغم دِکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالمجب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولہا بنا رہے تھےچہار عنصر کا تھا تقاضا بڑھیں قدم لیں بوقتِ اِسراوہ رنگ معراج نے دِکھایا تھا ہفتِ طارَم تلک تماشاکمالِ اعراج نے اُٹھایا حجابِ حسنِ جنابِ والااُتار کر اُن کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑاکہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھےہُمک رہا ہے مہک رہا ہے اُسی سے گلشن چہک رہا ہےوہی تو جاں میں کھنک رہا ہے اُسی سے ہر دِل دھڑک رہا ہےوہی تو شیشہ چمک رہا ہے اُسی کا جلوہ جھلک رہا ہےوہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہےنہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھےوہ شانِ فاران و رشکِ ایمن کہ جس سے ہے کن یَکوں معَنوَنکیے وہ اشنانِ آبِ روشن نرالے پَن میں تھا جلوہ افگنگہر گہر موجِ نور پتّن بچھا بچھا عرش عرش دامنبچا جو تلووں کا اُن کے دھوون بنا وہ جنّت کا رنگ و روغنجنہوں نے دولہا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھےتھی جشنِ نَوروز کی منادی دُرود شیرینی سب نے بانٹیلگی سبیلِ شفاۓ آبی سعادتوں کی تھی نقش بندینظامِ عالم کی نبض ٹھہری حمل کی آغوش مسکرائیخبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پِھرے گیوہاں کی پوشاک زیبِ تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھےہر اِک تھا تارِ قباۓ دلبر شعاعِ مہرِ قدس کا مظہرجمالِ عجز و حیا کے منظر بکھیرتی تھی دوشانہ چادروہ رفعتوں کا مطاف و محور بڑھا یوں سیرِ دَنَیٰ کو یکسرتجلئ حق کا سہرا سر پر صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاوردو رویہ قدسی پَرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھےچِھدا ہوا آرزو کا دامن فراق جاموں میں جلتا شیونفسردہ ہے حسرتوں کا ساون خزاں رُتوں سے ہے اُجڑا آنگننہ ہوتا یوں آسمان دشمن نہ رہتی محرومِ جلوہ اَکھیَنجو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترنمگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھےفلک فلک قدسیوں کے بیرَک علم لگاۓ جلاۓ دیپکجِدھر کو مڑتی عنانِ مرکب تھی شورشِ حبّذا مبارککھنچی جو وحدت کی قوس اَچانک ہدف دوئی کا تھا زیرِ ناوَکابھی نہ آۓ تھے پشتِ زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلّکصدا شفاعت نے دی مبارک گناہ مستانہ جھومتے تھےوہ اَبرِ الطاف کا برسنا وہ بارشِ نور میں نکھرنانہالِ تشبیہ کا نکلنا وہ باغِ تنزیہ میں مہکناوہ جلوہ گاہِ صفات بننا وہ رنگ ذاتِ خدا کا چڑھناعجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزالِ دَم خوردہ کا پھڑکناشعاعیں بُکے اُڑا رہی تھیں تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھےمراتبوں کا تھا رَکھ رَکھاؤ عنایتوں کا تھا رَچ رَچاؤیہ حکم اُٹّھا صدا لگاؤ جہاں ہو رُک جاؤ اے گداؤتڑپتوں کو راہ سے اُٹھاؤ براق سدرہ تلک لے آؤہجومِ اُمید ہے گھٹاؤ مرادیں دے کر انہیں ہٹاؤاَدب کی بھاگیں لیے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھےوہ شرحِ اجمالِ کن کا مظہر وہ کل کا مَقسم وہ کل کا مصدرچلا وہ بن کر ختام پیکر بڑھا وہ انوارِ حق کا محورنہ تابِ جلوہ میں تھا وہ منظر بس اِتنا ہے یاد کھا کے ٹھوکراُٹھی جو گردِ رہِ منوّر وہ نور برسا کہ راستے بھرگرے تھے بادَل بھرے تھے جل تھل اُمڈ کے جنگل اُبَل رہے تھےوہ جس سے تھی راہ راہ اُجلی وہ وادی وادی کہ جس سے مہکیسواری جس سمت ہو کے گزری ہر ایک شے حسنِ نَو سے نکھریکہاں رخِ شہ کا تھا فدائی نہ رمز کیوں ایسی ہاتھ آئیستم کیا کیسی مَت کٹی تھی قمر وہ خاک اُن کی رہگزر کیاٹھا نہ لایا کہ مَلتے مَلتے یہ دیکھنا داغ سب مٹے تھےعجب تھے جلوے عجب نظارے نہ آنکھ نے پہلے ایسے دیکھےتھے طیرِ پیہم کے وہ تماشے نہ چشمِ حد پر ٹھہرنے پاۓشمائمِ روح افزا سے تھے ہر ایک شے پر خمار جامےبراق کے نقشِ سُم کے صدقے وہ گل کھلاۓ کہ سارے رستےمہکتے گلبن لہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھےوہ نقطۂ جانِ سطحِ دائر فروع جس کی خطوطِ سائرحقائق و کل علَل کا ناظر مکان و مافیہ جس پہ ظاہروہ اسمِ ظاہر کہ جس کی خاطر بنی ذواتِ رسُل ضمائرنمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرّ عیاں ہو معنئ اوّل آخرکہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھےوہ شوقِ بہجت فزا بپا تھا عجب تماشا کہ جا بہ جا تھاوہ حال کیف و سرور کا تھا ہر ایک خود کو سنبھالتا تھاحجاب خود کے اتارتا تھا جمال خود کو سنوارتا تھایہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھانجوم و افلاک جام و مینا اُجالتے تھے کھنگالتے تھےظہورِ تفصیل کا وہ پیکر وہ سیرِ آفاقیت کا محوروہ صُورَتُ الاَمر و کُنہِ صُوَّر وہ نقشِ وجہِ نقوشِ دیگرہر ایک عالم رہے نہ کیونکر ہمہ زماں زیرِ پا مسخرنقاب الٹے جو مہرِ انور جلالِ رخسار گرمیوں پرفلک کو ہیبت سے تَپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے تھےوہ جلوۂ رخ جدھر جدھر تھا نظر کا سجدہ اُدھر اُدھر تھاجہانِ حیرت کہ سر بہ سر تھا ابھی تعارف یہ مختصر تھاہزار پردوں میں مستتر تھا وہ کشفِ اوّل کہ اِس قدر تھایہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھاصفاۓ رہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھےہوا جو ضَوریز ماہِ طلعت رہا نہ کوئی حجابِ ظلمتوہ ہالۂ سطحِ حق بہ صورت وہ موجیں نغمہ طرازِ عشرتوہ کیفِ رودِ ظہورِ حیرت وہ شورِ سیلابِ شانِ قربتبڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرتفلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھےوہ لِی مع اللہ کے تھے درجے جہاں رسول و ملک نہ پہنچےپَرے عقولِ مجرّدہ سے تھے محو و اثبات کے دریچےتھے کیا بسائط تھے کیسے قضیے نہ صدقِ عینی نہ لَا کے رشتےوہ ظلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتےسنہری زَربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھےوہ جس کی قامت پہ عرش قرباں وہ بلبلیں جس کی تہنیت خواںیہ رقصِ بِسمل میں طائرِ جاں تھا تَن سے ہونے کو تَن کے پرّاںوہ چشمِ مَازَاغ و حَمد مژگاں وہ زلفِ والّیل و روۓ تاباںچلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماںپلَک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گذر چکے تھےتَحَوَّلَ فِی الصُّوَر کشائی کسی کی جس تک نہ تھی رسائیمراتب و شانِ ارتقائی صوابِ شاب و جمال ادائیحقیقتِ ذاتِ مصطفائی نہ جس کی تھی تابِ آشنائیجھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پِھر نہ پائیسواری دولہا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھےجلالِ انوار کی تھی وہ لو تھا خود کے جَلنے کا خوف ہر سُووراۓ حیرت تھی وادئ ھو قلانچیں کیا بھرتا سدرہ آہووہ فاتحِ خِطّۂ مَن و تُو بڑھا جو دَم بھر سنوارے گیسوتھکے تھے روح الامیں کے بازو چُھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلورکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے ولولے تھےکنایہ تمثیل استعارہ قلم تخیل نہ لہجہ ایساحدودِ محدود پر ہے پہرہ وہاں نہ اِدراک و علم پہنچامشاہدہ تیری گردِ پا کا کرے کوئی کیا مجال شاہاروِش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اِک بھبوکا پھوٹاخرَد کے جنگل میں پھول چمکا دہر دہر پیڑ جَل رہے تھےفغانِ حسرت زَدہ سے بکھرے وہ خونِ خلتیدہ دِل کے ٹکڑےوہ داغِ ہجراں کے سب تقاضے رہے درونِ طلب تڑپتےپسینے چُھوٹے وہ زور ٹوٹے پَروں میں چہرہ چھپاۓ لوٹےجَلو میں جو مرغِ عقل اُڑے تھے عجب بُرے حالوں گرتے پڑتےوہ سدرہ پر ہی رہے تھے تھک کر چڑھا تھا دَم تیورا گئے تھےنہ عذرِ واماندگی ہو کیونکر پَرے تصوّر سے تھا وہ منظراڑان ایسی نہ ایسے شہپر نہ جرّأت ایسی اُڑیں برابرقُویٰ ہوۓ مضمحل وہ یکسر بندھے پَڑے تھے سب اپنی حد پرقَوی تھے مرغانِ وہم کے پَر اُڑے تو اُڑنے کو اور دَم بھراٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھےبروج و چرخِ قمر نے مل کے ثِخَن ثِخَن تھے اُچھالے جلوےسطوح قوسیں خطوط نقطے دوائرِ عشرہ اَدلے بدلےقبیلے قبلے سما کے سمٹے مماس جہتیں وہ رنگ پھوٹےسنا یہ اِتنے میں عرشِ حق نے کہ لے مبارک ہو تاج والےوہی قدم خیر سے پھر آۓ جو پہلے تاجِ شرَف ترے تھےتنزّلِ اوّلیں کا منشاء جمیعِ موجود کا خلاصہظہور ابداعِ عالمیں کا فروعِ کَونی کا اصل مایہبغیر اِس کے عدم نہ کُھلتا نہ میں بھی ہوتا ظہور فرمایہ سن کے بے خود پکار اُٹّھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقاپھر اُن کے تلووں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دِن پِھرے تھےحجاب اندر حجاب لپٹا وہ جانِ رازِ ازَل سراپانہ تحتِ قدرت مثیل جس کا نہ کُنہ تک جس کی کوئی پہنچاوِداعِ اِمکاں کے وقت ایسا سماں بندھا تھا کہ اللہ اللہجھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ گِرے تھے سجدے میں بزمِ بالایہ آنکھیں قدموں سے مل رہا تھا وہ گردِ قربان ہو رہے تھےحدودِ جسمی سبھی مٹائیں نقابِ روحی سبھی اُٹھائیںطنابِ معنی سبھی گرائیں جہات قدموں میں آ سمائیںظہور نے حیرتیں دِکھائیں وہ شمعیں کَیف اَینَ نے بجھائیںضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلیں جِھلمِلائیںحضورِ خورشید کیا چمکتے چراغ منہ اپنا دیکھتے تھےبرس رہا تھا سحابِ عشرت رواں تھا دریاۓ شکرِ نعمتوہ لَا تَناہی جمالِ کثرت محاط تھا پیشِ روۓ وحدتتھی خلوتِ بے نیازِ جلوت حضور تھا محوِ شوقِ غَیبتیہی سماں تھا کہ پَیکِ رحمت خبر یہ لایا کہ چلیے حضرتتمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھےنوازشیں تھیں وہ بے معَدَّد کہ مِٹ چکا تھا خطِ محدَّدحدوثِ ظاہر سے تھا مقیَّد بطوں میں کہیے قِدَم مؤیَّدتھا بحرِ بے جذرِ جوششِ مَدّ یوں بہرِ ماہِ طلوعِ سرمَدبڑھ اے محمَّد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ ممجَّدنثار جاؤں یہ کیا نِدا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھےمثال لَیسَ کَمِثلِہٖ کی نہ امرِ خارج میں ہے نہ ہو گیعیاں تُو ایسا کہ سب پہ مخفی نہاں میں تیرے ہے شانِ اِنِّیظہورِ اسماء شہودِ ظِلّی کسی کو نسبت نہ جزوی کُلّیتَبَارَکَ اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازیکہیں تو وہ جوشِ لن تَرَانِی کہیں تقاضے وصال کے تھےنظر کمیّت پہ اپنی ڈالے تو شرم مارے ہی منہ چھپا لےجو جائزہ خبط و حبط کا لے تو آگ اِدراک کو لگا لےتوسّعِ ضبط کے اجالے ہمارے اِس کے ہیں دیکھے بھالےخرَد سے کہہ دو کہ سَر جھکا لے گماں سے گزرے گزرنے والےپڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتاۓ کدھر گئے تھےتنزّل و اِستواء کہاں تھا وہاں تعیّن روا کہاں تھاخلا کا بھی کچھ پتہ کہاں تھا توقّف و ارتقاء کہاں تھامقامِ قوسِ دَنَیٰ کہاں تھا خبر کسے کون کیا کہاں تھاسراغِ اَین و متَیٰ کہاں تھا نشانِ کَیف و اِلیٰ کہاں تھانہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھےنسیمِ وادئ ھو کا چلنا طلب کے سبزوں کا لہلہاناسحابِ لمعات کا برسنا ظہورِ ہر مرتبہ نکھرناوہ رفتن و آمدن کا ہونا وہ محوِ شانِ نزول رہنااُدھر سے پیہم تقاضے آنا اِدھر تھا مشکل قدم بڑھاناجلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت ابھارتے تھےقباۓ فقرِ اَتَم کو پہنے رِداۓ حق الیقین اوڑھےتفرّد و جمعیت کے زینے قدم قدم تھے فنا وسیلےصُعُود اِلَی الغَیب کے سفینے وہ بحرِ لَا اَینَ میں تھے اترےبڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رُکتےجو قرب اِنہی کی روِش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھےمشاہدہ تھا محیطِ اشیاء ابھی تو تھا مرتبہ یہ پہلااٹھا وہ نظروں سے پردہ پردہ مشابہت تھی نہ یکسر اَصلابجز انہی کے وجودِ تنہا کوئی تحرّک نہ شور دیکھاپر اُن کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقتاً فعل تھا اُدھر کاتنزّلوں میں ترقّی اَفزا دَنَیٰ تَدَلّیٰ کے سلسلے تھےبہ رنگِ تجمیعِ احدیت کیا شہودِ اوّل سے تھا ہویداوہ اعتباراتِ فیضِ اسماء نہ قوسِ وحدت سے تھے معَرّایہاں تو اب یہ تقاضا بدلا کہ غیریت کا کنارہ ٹوٹاہوا نہ آخر کہ ایک بجرا تَموجِ بحرِ ھو میں ابھرادَنَیٰ کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھا دیے تھےنہ حصر و حد ضابطہ اشارا کوئی صراحت نہ استعاراقیاس و اِدراک و علم ہارا نہ کشف و عرفاں نے دَم ہی مارارسائیِ غیر کو نہ یارا دوئی وہاں تھی کہاں گواراکسے ملے گھاٹ کا کنارا کدھر سے گزرے کہاں اتارابھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھےبہم نہ کچھ کذب قضیے جوڑے بناۓ شکلیں نہ حَد گراۓکہاں بداہت وہاں پہ پہنچے درست نکلیں گے کیا نتیجےاے عقل حدِّ ادب "نہ بولے" معَمّہ ہے یہ کہاں وہ ٹھہرےاٹھے جو قصرِ دَنَیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دےوہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے،ارے تھےگھٹا وہ چھائی وہ ابر برسا عجب تلاطم میں اُمڈا دریاہوا وہ سیراب گوشہ گوشہ صفَت صفَت عکس عکس پھوٹافضا میں جامِ جمال چھلکا لطافتوں کا جہان مہکاوہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایاگرہ میں کلیوں کی باغ پھولا گلوں کے تکمے لگے ہوۓ تھےکوئی نہ تھا فردِ قطر شامل نہ سہم کوئی نہ وتر داخلنہ استواء نصف قطب حائل نظامِ تقویم سب تھا زائلمشاہدہ تھا وہاں سے عاطل شکستہ ہیئت کے تھے دلائلمحیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوطِ واصلکمانیں حیرت میں سر جھکاۓ عجیب چکّر میں دائرے تھےایاغِ مَے نابِ تازہ چھلکے نظر پہ رؤیت کے کیف آۓضیافتِ ذات نے بچھاۓ جمالِ مطلق کے خوان کیسےیوں قربت و بُعد کے تقاضے ہوۓ تھے پورے مٹے تھے شکوےحجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوےعجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھےوہی ، دو عالم کہ جس کی لہریں اسی کے دریا اسی کی نہریںاسی کے ساحل اسی کی راہیں اسی کی خاموشیاں اُٹھانیںاسی سمندر کی چاروں حَد میں بنی طلب کی تماشہ گاہیںزبانیں سوکھی دِکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیںبھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھےوہ خود ہی مذکور خود ہی ذاکر وہ خود تجلّا وہ خود ہی ساتِرسرائر و مُظہَر و نظائر عکوس و اظلال کا وہ دائروہی خبر مخبَر و مخَبِّر وہ خود ہی منظور خود ہی ناظروہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہراسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھےسب احتمالِ ضروب"قضیو"کہاں ہیں ناتِج یہاں سے پلٹومغالطہ میں ہو کذب زادو نہ نسبتِ حکم کوئی جوڑوجو ضعفِ اعراض اپنا دیکھو تو تم بھی یوں یَک زبان بولوکمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو تم اوّل آخر کے پھیر میں ہومحیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آۓ کدھر گئے تھےیہ راز کیا اہلِ عقل سمجھیں نہ وجہِ اعمال تھیں عطائیںیہ رفعتِ عبدیت کی شانیں دِکھاتی تھیں عجز کی ادائیںرضاۓ دو طرفہ کی جو بانہیں ،کُھلیں ، معانق ہوئیں تھیں قوسیںاِدھر سے تھیں نذرِ شہ نمازیں اُدھر سے انعامِ خسروی میںسلام و رحمت کے ہار گندھ کر گلوۓ پُرنور میں پڑے تھےوہ چَھنتے درپن چھلکتے نینن بچھے ہوۓ حیرتوں کے دامنوہ برقِ وحدت دوئی کے خِرمن عوارضِ جملہ محوِ شیوَنظہورِ انوارِ پردہ افگن اَحَد نے توڑا وہ میم بندھنزبان کو انتظارِ گفتن تو گوش کو حسرتِ شنیدنیہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھےوہ جس پہ ہر غیب آشکارا جہان ہے ملک جس کی سارانہ غم میں اُمّت جسے گوارا جو ٹھہرا ہر ایک کا سہاراجو ملنا تھا مل چکا اشارا جو کرنا تھا کر لیا نظاراوہ برجِ بطحا کا ماہ پارا بہشت کی سیر کو سدھاراچمک پہ تھا خلد کا ستارا کہ اُس قمر کے قدم گئے تھےپلک جھپکنے سے بے نیازی تھی چشمِ حور و ملک نے برتیوہ جس نے صورت خدا کی دیکھی اُسی کے جلووں کی تھی خماریصداۓ صدہا مبارک اُٹّھی بہشت قدموں سے آ کے لپٹیسرورِ مقدم کی روشنی تھی کہ تابشوں سے مہِ عرب کیجناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھےسَروں کو سَودا تھا اٹھیے اُڑیے کبھی یہ خواہش کہ جھکیے کَٹیےنہ پیچھے ہٹیے نہ آگے بڑھیے یوں کیف و کَم میں تھے اُن کے قضیےنہ قبض کے ضعف سے سُکڑیے جو بسط ہو ضبط کیسے کریےطرب کی نازش کہ ہاں لچکیے ادب وہ بندش کہ ہِل نہ سکیےیہ جوشِ ضدّین تھا کہ پودے کشاکشِ اَرَّہ کے تلے تھےزمانوں کے ناز تھے نرالے اِدھر وہ سمٹے اُدھر وہ پھیلےکہاں کہاں کتنا کتنا ٹھہرے جہان دیکھے تھے کیسے کیسےیہ کیا حقائق ہیں کیا معَمّے نظر کو یارا نہ عقل سمجھےخدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروڑوں منزل میں جلوہ کر کےابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آ لیے تھےبیانِ مطلب ہزار لُکنَت کہاں ہے دامن کو تابِ وسعتیہ میری منَّت یہ میری نیّت ہے تجھ پہ ظاہر ہر ایک حاجتبہ مصرعِ ذاتِ اعلیحضرت جُڑی ہے رازیٓ کی ساری حالتنبئ رحمت شفیعِ امّت رضا پہ للہ ہو عنایتاِسے بھی اُن خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھےنہ جودتِ طبع کبر آسا نہ لفظ و معنی پہ ہے بھروسانہ داد و تحسین کا ہوں شیدا نہ طالبِ سیم و زَر ذرا ساجو ہوں تو مدّاح مصطفیٰ کا گواہ ہے اِس پہ نطق میراثناۓ سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنّانہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے