آستاں ہے یہ احمد رضا خان کا مرحبا مرحبایعنی عشق و محبت کے سلطان کا مرحبا مرحباجام پر جام چلتا ہے عرفان کا مرحبا مرحباحال وہ ہے یہاں اہلِ وجدان کا مرحبا مرحباہوش رہتا نہیں ہے گریبان کا مرحبا مرحبا
شہرہ ہرسو ہے جس کے قلمدان کا مرحبا مرحباعقدہ کھلتا ہے فکرِ پریشان کا مرحبا مرحباتَن گیا سائباں ظلِّ سبحان کا مرحبا مرحبااللہ اللہ وہ عالم ہے فیضان کا مرحبا مرحبالڑ گیا عرش سے پایہ انسان کا مرحبا مرحبا
فکر کو آج دے گی عجب چاشنی پھیل کر چاندنیصاف کردے گی اب جادۂ باطنی پھیل کر چاندنیعشقِ سرکار کی بخشے گی راگنی پھیل کر چاندنیاب اُگائے گی گل کاسنی کاسنی پھیل کر چاندنیچاند نکلا نقی کے شبستان کا مرحبا مرحبا
جو بھی حالِ طریقت میں رنجیدہ ہیں تیرے گرویدہ ہیںجتنے بزمِ ریاضت کے سنجیدہ ہیں تیرے گرویدہ ہیںجو بھی اِس راہ کے صاحبِ دیدہ ہیں تیرے گرویدہ ہیںراز جتنے بھی اوروں سے پوشیدہ ہیں تیرے گرویدہ ہیںگل ہے مارِہرہ کے گلستان کا مرحبا مرحبا
سر پہ نورِ شریعت کی دستار ہے عقل بیدار ہےہے دہن یا کوئی بحرِ اسرار ہے دل پُر انوار ہےپشتِ آدم کا تو دُرِّ شہوار ہے رب کا شہکار ہےتو امامِ صفِ جملہ ابرار ہے اس کا حقدار ہےہے فدا تجھ پہ مایہ تن و جان کا مرحبا مرحبا
کیف میں سن کے ہے قدس کی انجمن تیری طرزِ سخنمانگتے ہیں سبھی طوطیانِ چمن تیری طرزِ سخندیکھ کر محوِ حیرت ہیں اہلِ سخن تیری طرزِ سخنکیا بیاں کر گئی مدحِ شاہِ زمن تیری طرزِ سخنتو کہ ہے ہوبہو عکس حسّان کا مرحبا مرحبا
مظہرِ قدرتِ ذاتِ حق کی نمود ایک تیرا وجودلطف و احسانِ رب العلیٰ کا ورود ایک تیرا وجودباعثِ رشک ہے عرصہ گاہِ شہود ایک تیرا وجودہے تجلی گہِ نقش ہائے درود ایک تیرا وجودکیا بیاں مرتبہ ہو تری شان کا مرحبا مرحبا
چار جانِ فقاہت کا قالب ہے تو سب پہ غالب ہے تولائقِ اجتہاد و مراتب ہے تو سب پہ غالب ہے توحافظِ ہر اصولِ مذاہب ہے تو سب پہ غالب ہے توپا پیادہ فقیہوں میں راکب ہے تو سب پہ غالب ہے تودُرّۃ التاج ہے فکرِ نعمان کا مرحبا مرحبا
صاحبِ کشفِ اسرارِ قرآن ہے واہ کیا شان ہےتو کہ علمِ نبوت پہ برہان ہے واہ کیا شان ہےظلِّ ممدودِ اجلالِ رحمان ہے واہ کیا شان ہےنائبِ خواجۂ بزمِ امکان ہے واہ کیا شان ہےتو ہے قبلہ مرے قلبِ حیران کا مرحبا مرحبا
خطبۂ نطقِ یوحی ٰکا منبر ہے تو میرا رہبر ہے توحق کا عارف ہے تو شیخِ اکبر ہے تو میرا رہبر ہے تواللہ اللہ خلافت کا مظہر ہے تو میرا رہبر ہے تواللہ اللہ عجائب کا پیکر ہے تو میرا رہبر ہے تونعرہ ہے تو مرے شوقِ وجدان کا مرحبا مرحبا
در پہ بلوا لیا میرا رکھا بھرم یہ ہے تیرا کرمدُھل گیا قلبِ رازیٓ سے داغِ الم یہ ہے تیرا کرممیں ہوا داخلِ اہلیانِ ہمم یہ ہے تیرا کرمشرفِ رؤیت ملا میں ہوا محترم یہ ہے تیرا کرماللہ اللہ مقدر یہ مہمان کا مرحبا مرحبا