بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتُھرا بادل
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتُھرا بادلبرق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جَل
گھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گوکلجا کے جَمُنا پہ نہانا بھی ہے اِک طولِ اَمَل
خبر اُڑتی ہُوئی آئی ہے مہابن میں ابھیکہ چلے آتے ہیں تیرَتھ کو ہَوا پر بادل
تہ و بالا کئے دیتے ہیں ہَوا کے جھونکےبیڑے بھادوں کے نکلتے ہیں بھرے گنگا جَل
کبھی ڈُوبی کبھی اچھلی مہِ نَو کی کشتیبحرِ اخضر میں طلاطم سے پڑی ہے ہلچل
شبِ دیجور اندھیرے میں ہے بادل کے نہاںلیلی ٰمحمل میں ہے ڈالے ہوئے منہ پر آنچل
آتشِ گل کا دُھواں بامِ فلک پر پہنچاجم گیا منزلِ خورشید کی چھت میں کاجل
جس طرف سے گئی بجلی پھر اُدھر آ نہ سکیقلعۂِ چرخ میں ہے بھول بھلیّاں بادل
آئینہ آبِ تموّج سے بہا جاتا ہےکہیے تصویر سے گرنا نہ کہیں دیکھ سنبھل
آج یہ نشونُما کا ہے ستارہ چمکاشاخ میں کاہکشاں کہ نکل آئی کوپل
خضر فرماتے ہیں سنبل سے تِری عمر درازپھول سے کہتے ہیں پھلتا رہے گلزارِ اَمَل
دیکھتے دیکھتے بڑھ جاتی ہے گلشن کی بہاردیدۂِ نرگسِ شہلا کو نہ سمجھو احوَل
لہریں لیتا ہے جو بجلی کے مقابل سبزہچرخ پر بادلا پھیلا ہے زمیں پر مخمل
ہمزباں وصفِ چمن میں ہوئے سب اہلِ چمنطوطیوں کی ہے جو تضمین تو بلبل کی غزل
جگنو پھرتے ہیں جو گلبن میں تو آتی ہے نظرمصحفِ گل کے حواشی پہ طلائی جدوَل
شاخ پر پھول ہیں جنبش میں زمیں پر سنبلسب ہَوا کھاتے ہیں گلشن میں سوار و پیدل
آہِ قمری میں مزا اور مزے میں تاثیرسرو میں دیکھیے پھول آنے لگے پھول میں پھل
خندہ ہائے گلِ قالیں سے ہُوا شورِ نشورکیا عجب ہے جو پریشان ہے خوابِ مخمل
شاخِ شمشاد پہ قمری سے کہو چھیڑے ملارنونہالانِ گلستاں کو سنائے یہ غزل
طُرفہ گردش میں گرفتار عجب پھیر میں ہےسُرمہ ہے نیند مِری دیدۂِ بیدار کھرل
سمتِ کاشی سے گیا جانبِ مَتُھرا بادلتیرتا ہے کبھی گنگا کبھی جَمُنا بادل
سمتِ کاشی سے گیا جانبِ مَتُھرا بادلبُرج میں آج سرِ کشن ہے کالا بادل
شاہدِ گل کا لئے ساتھ ہے ڈولا بادلبرق کہتی ہے مبارک تجھے سہرا بادل
خوب چھایا ہے سرِ گوکل ومَتُھرا بادلرنگ میں آج کنھیّا کے ہے ڈُوبا بادل
سطحِ افلاک نظر آتی ہے گنگا جَمُنیروپ بجلی کا سنہرا ہے روپہلا بادل
چرخ پر بجلی کی چل پھر سے نظر آتا ہےسبزہ چمکائے ہلاتا ہُوا برچھا بادل
بجلی دو چار قدم چلکے پلٹ جائے نہ کیوںوہ اندھیرا ہے کہ پھرتا ہے بھٹکتا بادل
جب تلک بُرج میں جَمُنا ہے یہ کُھلنے کا نہیںہے قسم کھائے اُٹھائے ہُوئے گنگا بادل
چشمۂِ مہر ہے عکسِ زرِ گل سے دریاپرتوِ برق سے ہے سونے کا بجرا بادل
مری آنکھوں میں سماتا نہیں یہ جوش و خروشکسی بیدرد کو دِکھلا یہ کرشمہ بادل
طیشِ دل کا اوڑایا ہُوا نقشہ بجلیچشمِ پُر آب کا دھویا ہُوا خاکا بادل
دلِ بیتاب کی ادنٰی سی چمک ہے بجلیچشمِ پُر آب کا ہے ایک کرشمہ بادل
اپنی کمظرفیوں سے لاکھ فلک پر چڑھ جائےمیری آنکھوں کا ہے اُترا ہُوا صدقہ بادل
کچھ ہنسی کھیل نہیں جو ششِ گِریہ کا ضبطیہ مرا دل ہے یہ میرا ہے کلیجا بادل
راجہ اندر ہے پریخانہِ مے کا پانینغمہِ مے کا سرِ کشن کنھیّا بادل
دیکھتا گر کہیں مُحسؔن کی فغان و زارینہ گرجتا کبھی ایسا نہ برستا بادل
پھر چلا خامہ قصیدہ کی طرف بعدِ غزلکہ ہے چکر میں سخنگو کا دماغِ مختل
مے گلرنگ ہے کیا شمعِ شبِ فکر کا پھولچلتے چلتے جو قلم ہاتھ سے جاتا ہے نکل
ہے سخنگو کو نہ انشاء کی نہ املا کی خبرہوگئی نظم کی انشاء کی خبر سب مہمل
دل میں کچھ اور ہے پر منہ سے نکلتا ہے کچھ اورلفظ بے معنی ہیں اور معنی ہیں سب بے اٹکل
کتنا بے قید ہُوا کتنا آوارہ پھراکوئی مندر نہ بچا اُس سے نہ کوئی استل
کبھی گنگا پہ بھٹکتا ہے کبھی جَمُنا پرگھاگھرا پر کبھی گزرا کبھی سوئے چمل
چھینٹے دینے سے نہ محفوظ رہی قلزم و نیلنہ بچا خاک اُڑانے سے کوئی دشت و جبل
ہاں یہ سچ ہے کہ طبیعت نے اُڑایا جو غبارہوئی آئینہِ مضموں کی دو چنداں صیقل
اِک ذرا دیکھیے کیفیتِ معراجِ سخنہاتھ میں جامِ زحل شیشہِ مہ زیرِ بغل
گرتے پڑتے کہاں مستانہ کہاں رکھا پاؤںکہ تصور بھی جہاں جا نہ سکے فرق کے بل
یعنی اُس نور کے میدان میں پہنچا کہ جہاںخرمنِ برقِ تجلٰی کا لقب ہے بادل
تارِ بارانِ مسلسل ہے ملائک کا دُرودبہرِ تسبیحِ خداوندِ جہاں عزوجل
کہیں طوبٰی کہیں کوثر کہیں فردوسِ بریںکہیں بہتی ہُوئی نہرِ لبن و نہرِ عسل
کہیں جبریل حکومت پہ کہیں اسرافیلکہیں رضواں کا کہیں ساقیِ کوثر کا عمل
کنزِ مخفی کے کسی سمت نہاں تہ خانےاِک طرف مظہرِ قدرت کے عیاں شیش محل
عاشقِ جلوہ طلبگار کہیں چشمِ قبولنازِ محبوب کے پردے میں کہیں حسنِ عمل
گلِ بیرنگیِ مطلق سے لہکتے گلزاربے نیازی کے ریاحیں سے مہکتے جنگل
باغِ تنزیہ میں سرسبز نہالِ تشبیہانبیا جس کی ہیں شاخیں عرفا ہیں کوپل
گلِ خوشرنگ رسولِ مدنی عربیزیب دامانِ ابد طُرّہِ دستارِ ازل
نہ کوئی اسکا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیرنہ کوئی اسکا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا قمر نخلِ دو عالَم کا ثمربحرِ وحدت کا گہَر چشمۂِ کژت کا کنول
مہرِ توحید کی ضو اوجِ شرف کا مہِ نَوشمعِ ایجاد کی لَو بزمِ رسالت کا کنول
مرجعِ رُوحِ امیں زیب دہ عرشِ بریںحامیِ دینِ متیں ناسخِ ادیان و مِلَل
ہفت اقلیمِ ولایت میں شہِ عالیجاہچار اطرافِ ہدایت میں نبیِ مُرسل
جی میں آتا ہے لکھوں مطلعِ برجستہ اگروجد میں آکے قلم ہاتھ سے جائے نہ اُچھل
منتخب نسخہِ وحدت کایہ تھا روزِ ازلکہ نہ احمد کا ہے ثانی نہ احد کا اوّل
دورِ خورشید کی بھی حشر میں ہو جائیگی صبحتا ابد دورِ محمد کا ہے روزِ اوّل
شبِ اسرٰی میں تجلی سے روئے انور کیپڑ گئی گردنِ رفرف میں سنہری ہیکل
سجدہِ شکر میں ہے ناصیہِ عرشِ بریںخاکِ سے پائے مقدس کی لگا کر صندل
افضلیت پہ تری مشتمل آثار و کتباوّلیت پہ تِری متفق ادیان و مِلَل
لطف سے تیرے ہوئی شوکتِ ایماں محکمقہر سے سلطنتِ کفر ہوئی مستاصل
جس طرف ہاتھ بڑھیں کفر کے چھٹ جائیں قدمجس جگہ پاؤں رکھیں سجدہ کریں لات و ہبل
ہوسکا ہے کہیں محبوبِ خدا غیرِ خدااِک ذرا دیکھ سمجھ کر مری چشمِ احوَل
رفع ہونے کا نہ تھا وحدت و کثرت کا خلافمیمِ احمد نے کیا آکے یہ قصہ فیصل
نظر آئے مجھے احمد میں اگر دالِ دوئیروزِ محشر ہوں الٰہی میری آنکھیں احوَل
پھر اُسی طرز کی مشتاق ہے موّاجیِ طبعکہ ہے اس بحر میں اِک قافیہ اچھا بادل
کیا جھکا کعبے کی جانب کو ہے قبلا بادلسجدے کرتا ہے سوئے طیبہ و بطحا بادل
چھوڑ کر بتکدہِ ہند و صنم خانہ ِ بُرجآج کعبہ میں بچھائے ہے مُصلّا بادل
سبزہِ چرخ کو اندھیاری لگا کر لایاشہسوارِ عربی کے لئے کالا بادل
بحرِ امکاں میں رسولِ عربی دُرِّ یتیمرحمتِ خاص خداوندِ تعالٰی بادل
قبلہِ اہلِ نظر کعبہِ ابروئے حضورموئے سَر قبلے کو گھیرے ہوئے کالا بادل
رشک سے شعلہِ رخسار کے روتی ہے برقبرق کے منہ پہ رکھے ہوئے پلّا بادل
دُور پہنچی لبِ جاں بخشِ نبی کی شہرتسُن زرا کہتے ہیں کیا حضرتِ عیسٰی بادل
چشمِ انصاف سے دیکھ آپ کے دندان شریفدُرِّ یکتا ہے تیرا گرچہ یگانا بادل
تھا بندھا تار فرشتوں کا درِ اقدس پرشبِ معراج میں تھا عرشِ مُعلّٰی بادل
آمد ورفت میں تھا ہمقدمِ برق براقمرغزارِ چمنِ عالَمِ بالا بادل
ہفت اقلیم میں اس دیں کا بجا ہے ڈنکاتھا تری عام رسالت کا گرجتا بادل
آستانے کا ترے دہر میں وہ رتبہ ہےکہ جو نکلا تو جھکائے ہُوئے کاندھا بادل
تُو وہ فیاض ہے در پر ترے سائل کی طرحفلکِ پیر کو لایا دیے کاندھا بادل
تیغ میدانِ شجاعت میں چمکتی بجلیہاتھ گلزارِ سخاوت میں برستا بادل
محسؔن اب کیجیے گلزارِ مناجات کی سیرکہ اجابت کا چلا آتا ہے گہرا بادل
سب سے اعلٰی تری سرکار ہے سب سے افضلمیرے ایمانِ مفصل کا یہی ہے مجمل
ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالینہ مرا شعر نہ قطعہ نہ قصیدہ نہ غزل
دین و دنیا میں کسی کا نہ سہارا ہو مجھےصرف تیرا ہی بھروسہ تری قوت ترا بل
ہو مرا ریشہِ امید وہ نخلِ سر سبزجسکی ہر شاخ میں ہو پھول ہر اِک پھول میں پھل
آرزو ہے کہ ترا دھیان رہے تا دمِ مرگشکل تیری نظر آئے مجھے جب آئے اجل
روح سے میری کہیں پیار سے یوں عزرائیلکہ مری جان مدینے کو جو چلتی ہے تو چل
دمِ مردن یہ اشارہ ہو شفاعت کا تریفکرِ فرداتُو نہ کر دیکھ لیا جائیگا کل
یادِ آئینہِ رُخسار سے حیرت ہو مجھےگوشہِ قبر نظر آئے مجھے شیش محل
میزباں بن کے نکیرین کہیں گھر ہے ترانہ اُٹھا نا کوئی تکلیف نہ ہونا بیکل
رُخِ انور کا ترے دھیان رہے بعدِ فنامیرے ہمراہ چلے راہِ عدم میں مشعل
حذف ہوں میرے گناہانِ ثقیل اور خفیفآئیں میزاں میں جب افعالِ صحیح و معتل
میری شامت سے ہو آراستہ گیسوئے سیاہعارضِ شاہدِ محشر ہو اگر حُسنِ عمل
صفِ محشر میں ترے ساتھ ہو تیرا مدّاحہاتھ میں ہو یہی مستانہ قصیدہ یہ غزل
کہیں جبریل اشارے سےکہ ہاں! بسم اللہسمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتھُرا بادل