درِ حضُورؐ سے دَر کوئی بھی بلند نہیںوہ بد نصیب ہے جو اِس سے بہرہ مند نہیں
وہ آفتابِ رسالتؐ ہے تیرگی کا نقیضکہ جیسے ظُلمتِ شب، مِہر کو پسند نہیں
اُسے ہو کیسے شعُورِ غمِ بشر، جس کانَفَس گُداز نہیں، جان درد مند نہیں
ہم اُس کے حلقہ بگوشوں میں ہیں، ہمارے لیےزمین ہو کہ زماں، کوئی بھی کمند نہیں
رَعُونتِ نَسَبی ہو کہ سِیم و زر کا غُروررہِ نیاز میں کوئی بھی سُود مند نہیں
یہ اقتضائے محبّت ہے، اُس سے دُور رہیںجو بات سیّدِؐ لولاک کو پسند نہیں
جہاں پہ خیر کے طائر قیام کرتے ہیںابھی وہ بامِ سعادت تہِ کمند نہیں
ہے اُنؐ پہ آئنہ سب حال بِن کہے اپنالبوں پہ مُہر سہی، راہِ دِل تو بند نہیں
شہِؐ انام کے درسِ فروتنی کی قسمنصِیرؔ، بندۂ عاجز ہے، خود پسند نہیں۔
سیّد پِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی