صحنِ حرم میں اتری ہے لطف و عطا کی ضَوآئے حضور بس گئی ہر سو وفا کی ضَو
وحدت کا نور چھا گیا پھیلی حرا کی ضَوظلمت کدوں پہ جب پڑی شمس الضحٰی کی ضَو
منگتا بھی داتا بن گئے فیضِ رسول سےچمکی جو نامرادوں پہ جود و سخا کی ضَو
بیواؤں اور یتیموں کو حاصل ہوا کمالجیسے ہی پھیلی بعثتِ خیر الوریٰ کی ضَو
روشن بصیرتیں بھی بصارت کے ساتھ ہوںبس جائے جس کے دل میں حبیبِ خدا کی ضَو
ماہِ مدینہ قبر میں تشریف لائیں گےتا حشر جگمگائے گی بدرالدجیٰ کی ضَو
تہذیب کے شعور سے عاری تھا کُل جہاںبخشی رسولِ پاک نے سب کو حیا کی ضَو
وردِ دُرود رکھتا ہے روشن دل و نظرکیا ہی سکون بخش ہے صلِ علیٰ کی ضَو
قسمت پہ اپنی کیوں نہ مشاہد کو ناز ہواُس کو ملی نصیب سے حمد و ثنا کی ضَو