اعلیٰ حضرت کے ایک مصرعِ اولیٰ "ماہِ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے" پر سعادتِ نعت :
یادِ رسولِ پاک میں جو گُم رہا کرےہر ایک رنج و غم سے وہی تو بچا کرے
جو کوئی اُن کے نام پہ خود کو فدا کرےنارِ جحیم سے اُسے مولیٰ رِہا کرے
منگتا ہزار بار عطا پر خطا کرےایسا سخی ہے وہ کہ خطا پر عطا کرے
تکمیل کیوں نہ اُس کی تمنّا خدا کرےاُن کے وسیلے جو کوئی رب سے دعا کرے
اُس کی نگاہیں کیوں نہ منور رہیں سدانظروں میں جس کے گنبدِ خضرا بسا کرے
تحویلِ قبلہ سے ہے عیاں صاف صاف یہمنظور خود خدا بھی نبی کی رضا کرے
جائے درِ رسول پہ بخشش کے واسطےجو کوئی اپنی جان پہ خود ہی جفا کرے
چومے گی اُس کے قدموں کو خود منزلِ بقاناموسِ مصطفیٰ پہ جو خود کو فنا کرے
منزل کڑی ہے رات اندھیری ہے قبر کی"ماہِ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے"
واصف ہے جب حضور کی خود ذاتِ کبریاکس طرح کوئی نعت کا پھر حق ادا کرے
جب ہے گدا پہ اُن کی عنایت بلا طلبکیوں کر وہ بارگاہ میں جا کر صدا کرے
ہوجائیں خود بَلائیں بَلاؤں میں مبتلاچارہ گری ہماری جو خاکِ شفا کرے
اُس کو ملے گی کیسے شفاعت حضور کیسُنّت کو چھوڑ کر جو نبی کو خفا کرے
ہے آرزو مُشاہدِ خستہ کی بس یہیوقتِ قضا بھی آپ کی مدح و ثنا کرے
احمد رضا کے ساتھ مُشاہد بھی یارسولمدحت سرائی آپ کی زیرِ لِوا کرے
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
عرض نمودہ : محمد حسین مشاہد رضوی