یا الہٰی عشق مولیٰ میں مجھے ایسا گماتا ابد نکلے نہ میرے دل سے ارمان رسول
امر ان کا امر رب ہی نہی اُن کی نہی ربوہ ہے فرمان الہٰی جو ہے فرمان رسول
شکر تیرا ہوسکے کس طرح رحمٰن رسولمجھ سے عاصی تو کیا تونے ثناخوانِ رسول
دو جہاں میں آفتاب ہاشمی کی ہے ضیاآئینہ ہیں دہر و عالم پیش چشمان رسول
ہیں ملک روضے پہ حاضر داب شاہی کےلیےورنہ خود مولیٰ تعالیٰ ہے نگہبان رسول
بھول جائے با غ و گل کو چھوڑ دے سیرچمنعندلیب زار گر دیکھے بیابان رسول
ان کے در سے بھیک پاتے ہیں سلاطین جہاںبادشاہان زمانہ ہیں گدایان رسول
ایک ہم ہیں جو فراق و ہجر میں تڑپا کریںایک وہ ہیں جو بنے قسمت سے دربان رسول
چل دیے جو روضۂ شہ کی زیارت کےلیےہوگئے گھر سے نکلتے ہی وہ مہمان رسول
ہے بیابان مدینہ جان اہل خلد کیآبروئے جنت الماوٰی گلستان رسول
سوف یعطیک فترضی مہرہے اس بات پرخلد میں بے شبہ جائیں گے گدایان رسول
اس طرح آئیں گے ان کے نام لیوا حشر میںلب پہ ہوگا نام حق ہاتھوں میں دامان رسول
یا الہٰی آفتاب حشر جب تیزی دکھائےسایہ گستر ہوگنہگاروں پہ دامان رسول
کربلا والوں کا صدقہ شاہ جیلاں کا طفیلعاصیوں کے جرم دھودے چشم گریان رسول
ان کے قدموں پر کیے قربان اپنے جان و مالآفریں صد آفریں اے جاں نثار ان رسول
منکر ان مجلس میلاد سے کہہ دے کوئیمحفل اقدس میں آکر دیکھ لیں شان رسول
جس طرح واصف ہے دنیا میں جمیل قادریحشر میں بھی ہو یوہیں یارب ثنا خوانِ رسول
قبالۂ بخشش