سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہناہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترےذکر کی رفعت کیا کہنا
ہے سر پر تاج نبوت کا جوڑا ہے تن پہ کرامت کاسہرا ہے جبیں پہ شفاعت کا امت پہ ہے رحمت کیا کہنا
اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ فرمائے ترے حق میں واوروحدت کا کیا تجھ کو مظہر اور دی ہے کثرت کیا کہنا
معراج ہوئی تا عرش گئے حق تم سے ملا تم حق سے ملےسب راز فاوحیٰ دل پہ کھلے یہ عزت و حشمت کیا کہنا
حوروں نے کہا سبحان اللہ غلماں نے پکارا صلی اللہاور قدسی بولے الا اللہ ہے عرش پہ دعوت کیا کہنا
قرآن کلام باری رہے اور تیری زباں سے جاری ہےکیا تری فصاحت پیاری ہے اور تیری بلاغت کیا کہنا
باتوں سے ٹپکتی لذت ہے آنکھوں سے برستی رحمت ہےخطبے سے چمکتی ہیبت ہے اے شاہ رسالت کیا کہنا
سب مثل ہتھیلی پیش ِنظر ہر غیب عیاں ہے سینے پریہ نور نظر یہ چشم بصر یہ علم و حکمت کیا کہنا
ہو حسن نبی کی کیسے صفت جس کی ہے خدا کو بھی چاہتوالشمس چمک طہ رنگ پھر اس میں ملاحت کیا کہنا
ہر ذرہ ترا دیوانہ ہے ہر دل میں ترا کاشانہ ہےہر شمع تری ہروانہ ہے اے شمع ہدایت کیا کہنا
صدیق و عمر عثمان و علی اور ان کے سوا اصحاب نبیقربان رہے آقا پہ سبھی کی خوب رفاقت کیا کہنا
صدیق ہیں جان صداقت کی فاروق ہیں شان عدالت کیعثمان ہیں کان مروت کی حیدر کی ولایت کیا کہنا
دو پھول بتولی گلشن کے اک سبز ہوئے اک سرخ ہوئےبغداد و عرب جن سے مہکے ان پھولوں کی نکہت کیا کہنا
گیسوئے کرم کھلجائیں اگر رحمت کی گھٹا برسے جم کرپیا سے یہ کہیں خوش ہو ہوکر اے ابر رحمت کیا کہنا
آنکھوں سے کیا دریا جاری اور لب پہ دعا پیاری پیاریرو رو کے گزاری شب ساری اے حامی امت کیا کہنا
عالم کی بھریں ہر دم جھولی خود کھائیں توبس جو کی روٹیوہ شان عطا و سخاوت کی یہ زہدو قناعت کیا کہنا
شہرت ہے جمیل اتنی تیری یہ سب ہے کرامت مرشدکیکہتے ہیں تجھے مداح نبی سب اہل سنت کیا کہنا
قبالۂ بخشش