چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربطرکھے خاکِ درِ دلدار سے ربط
اُن کی نعمت کا طلبگار سے میلاُن کی رحمت کا گنہگار سے ربط
دشتِ طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہارہو عنادِل کو نہ گلزار سے ربط
یا خدا دل نہ ملے دُنیا سےنہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط
نفس سے میل نہ کرنا اے دلقہر ہے ایسے ستم گار سے ربط
دلِ نجدی میں ہو کیوں حُبِّ حضورظلمتوں کو نہیں اَنوار سے ربط
تلخیِ نزع سے اُس کو کیا کامہو جسے لعل شکر بار سے ربط
خاک طیبہ کی اگر مل جائےآپ صحت کرے بیمار سے ربط
اُن کے دامانِ گہر بار کو ہےکاسۂ دوست طلبگار سے ربط
کل ہے اجلاس کا دن اور ہمیںمیل عملہ سے نہ دربار سے ربط
عمر یوں اُن کی گلی میں گزرےذرّہ ذرّہ سے بڑھے پیار سے ربط
سرِ شوریدہ کو ہے دَر سے میلکمر خستہ کو دیوار سے ربط
اے حسنؔ خیر ہے کیا کرتے ہویار کو چھوڑ کر اَغیار سے ربط
ذوقِ نعت