کیا خداداد آپ کی اِمداد ہےاک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے
مصطفےٰ تو برسرِ اِمداد ہےعفو تو کہہ کیا ترا اِرشاد ہے
بن پڑی ہے نفس کافر کیش کیکھیل بگڑا لو خبر فریاد ہے
اس قدر ہم اُن کو بھولے ہائے ہائےہر گھڑی جن کو ہماری یاد ہے
نفسِ امارہ کے ہاتھوں اے حضورداد ہے بیداد ہے فریاد ہے
پھر چلی بادِ مخالف لو خبرناؤ پھر چکرا گئی فریاد ہے
کھیل بگڑا ناؤ ٹوٹی میں چلااے مرے والی بچا فریاد ہے
رات اندھیری میں اکیلا یہ گھٹااے قمر ہو جلوہ گر فریاد ہے
عہد جو اُن سے کیا روزِ اَلستکیوں دلِ غافل تجھے کچھ یاد ہے
میں ہوں میں ہوں اپنی اُمت کے لیےکیا ہی پیارا پیارا یہ اِرشاد ہے
وہ شفاعت کو چلے ہیں پیشِ حقعاصیو تم کو مبارک باد ہے
کون سے دل میں نہیں یادِ حبیبقلبِ مومن مصطفےٰ آباد ہے
جس کو اُس دَر کی غلامی مل گئیوہ غمِ کونین سے آزاد ہے
جن کے ہم بندے وہی ٹھہرے شفیعپھر دلِ بیتاب کیوں ناشاد ہے
اُن کے دَر پر گر کے پھر اُٹھا نہ جائےجان و دل قربان کیا اُفتاد ہے
یہ عبادت زاہدو بے حُبِّ دوستمفت کی محنت ہے سب برباد ہے
ہم صفیروں سے ملیں کیوں کر حسنؔسخت دل اور سنگدل صیاد ہے
ذوقِ نعت