ﷲ ﷲ شہِ کونین جلالت تیریفرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئےہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تیری
تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلک خدا کا مالکراج تیرا ہے زمانے میں حکومت تیری
تیرے انداز یہ کہتے ہیں کہ خالق کو ترےسب حسینوں میں پسند آئی ہے صورت تیری
اُس نے حق دیکھ لیا جس نے اِدھر دیکھ لیاکہہ رہی ہے یہ چمکتی ہوئی طلعت تیری
بزم محشر کا نہ کیوں جائے بلاوا سب کوکہ زمانے کو دکھانی ہے وجاہت تیری
عالم رُوح پہ ہے عالم اجسام کو نازچوکھٹے میں ہے عناصر کے جو صورت تیری
جن کے سر میں ہے ہوا دشتِ نبی کی رضواںاُن کے قدموں سے لگی پھرتی ہے جنت تیری
تو وہ محبوب ہے اے راحتِ جاں دل کیسےہیزمِ خشک کو تڑپا گئی فرقت تیری
مہ و خورشید سے دن رات ضیا پاتے ہیںمہ و خورشید کو چمکاتی ہے طلعت تیری
گٹھریاں بندھ گئی پر ہاتھ ترا بند نہیںبھر گئے دل نہ بھری دینے سے نیت تیری
موت آ جائے مگر آئے نہ دل کو آرامدم نکل جائے مگر نکلے نہ اُلفت تیری
دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اﷲ اﷲیاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری
مجمعِ حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہےڈھونڈنے نکلی ہے مجرم کو شفاعت تیری
نہ ابھی عرصۂ محشر نہ حسابِ اُمتآج ہی سے ہے کمر بستہ حمایت تیری
تو کچھ ایسا ہے کہ محشر کی مصیبت والےدرد دُکھ بھول گئے دیکھ کے صورت تیری
ٹوپیاں تھام کے گر عرشِ بریں کو دیکھیںاُونچے اُونچوں کو نظر آئے نہ رفعت تیری
حُسن ہے جس کا نمک خوار وہ عالم تیراجس کو اﷲ کرے پیار وہ صورت تیری
دونوں عالم کے سب ارمان نکالے تو نےنکلی اِس شانِ کرم پر بھی نہ حسرت تیری
چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دل محشر میںغم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری
ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکنتو ہے اُن کا تو حسنؔ تیری ہے جنت تیری
ذوقِ نعت