مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہوسَرورِ ہر دو سَرا ہو
اپنے اچھوں کا تَصَدُّقہم بدوں کو بھی نباہو
کس کے پھر ہوکر رہیں ہمگر تمھیں ہم کو نہ چاہو
بَد ہنسیں تم اُن کی خاطررات بھر رو و کراہو
بد کریں ہر دم بُرائیتم کہو اُن کا بھلا ہو
ہم وہی ناشستہ رُو ہیںتم وہی بحرِ عطا ہو
ہم وہی شایانِ رد ہیںتم وہی شانِ سخا ہو
ہم وہی بے شرم و بد ہیںتم وہی کانِ حیا ہو
ہم وہی ننگِ جفا ہیںتم وہی جانِ وفا ہو
ہم وہی قابل سزا کےتم وہی رحمِ خدا ہو
چرخ بدلے دہر بدلےتم بدلنے سے ورا ہو
اب ہمیں ہوں سہو حاشاایسی بھولوں سے جُدا ہو
عمر بھر تو یاد رکھاوقت پر کیا بھولنا ہو
وقتِ پیدائش نہ بھولےکَیْفَ نَیْسٰی کیوں قضا ہو
یہ بھی مولیٰ عرض کر دوںبھول اگر جاؤ تو کیا ہو
وہ ہو جو تم پر گراں ہےوہ ہو جو ہر گز نہ چاہو
وہ ہو جس کا نام لیتےدشمنوں کا دل بُرا ہو
وہ ہو جس کے رد کی خاطررات دن وقفِ دُعا ہو
مر مٹیں برباد بندےخانہ آباد آگ کا ہو
شاد ہو ابلیسِ ملعوںغم کسے اِس قہر کا ہو
تم کو ہو وَاللہ! تم کوجان و دل تم پر فدا ہو
تم کو غم سے حق بچائےغم عَدُوّ کو جاں گَزا ہو
تم سے غم کو کیا تعلّقبے کسوں کے غم زِدا ہو
حق دُرودیں تم پہ بھیجےتم مُدام اُس کو سراہو
وہ عطا دے تم عطا لووہ وہی چاہے جو چاہو
بر تو او پاشَد تو بر ماتا ابد یہ سلسلہ ہو
کیوں رضؔا مشکل سے ڈریےجب نبی مشکل کُشا ہو
حدائقِ بخشش