چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والےمِرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمتبدوں پر بھی برسا دے برسانے والے
مدینے کے خطّے خدا تجھ کو رکھےغریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے
تو زندہ ہے واللہ! تو زندہ ہے واللہ!مِرے چشمِ عالَم سے چھپ جانے والے
میں مجرم ہوں آقا! مجھے ساتھ لے لوکہ رستے میں ہیں جا بہ جا تھانے والے
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلناارے سر کا موقع ہے او جانے والے
چل اٹھ جبہہ فرسا ہو ساقی کے در پردرِ جود اے میرے مستانے والے
تِرا کھائیں تیرے غلاموں سے اُلجھیںہیں منکر عجب کھانے غُرّانے والے
رہےگا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گاپڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
اب آئی شفاعت کی ساعت اب آئیذرا چین لے میرے گھبرانے والے
رضؔا نفس دشمن ہے دم میں نہ آناکہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے
حدائقِ بخشش