قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کیمشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی
لاج رکھ لی طَمَعِ عفو کے سودائی کیاے میں قرباں مِرے آقا بڑی آقائی کی
فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضربس قسم کھائیے اُمّی تِری دانائی کی
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حالدھوم وَالنَّجْم میں ہے آپ کی بینائی کی
پانسو (۵۰۰) سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گامآس ہم کو بھی لگی ہے تِری شنوائی کی
چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورجواہ کیا بات شہا! تیری توانائی کی
تنگ ٹھہری ہے رؔضا جس کے لیے وسعتِ عرشبس جگہ دل میں ہے اس جلوۂ ہر جائی کی
حدائقِ بخشش