Naat Academy Naat Academy
واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روزانہ نعت، درود اور اسلامی مواد

ہوم

سوشل میڈیا پر فالو کریں

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا

۞
1

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھاحضورِ خاکِ مدینہ خمیدہ ہونا تھا

اگر گُلوں کو خزاں نا رسیدہ ہونا تھاکنارِ خارِ مدینہ دمیدہ ہونا تھا

2

حضور اُن کے خلافِ ادب تھی بے تابیمِری اُمید تجھے آرمیدہ ہونا تھا

نظارہ خاکِ مدینہ کا اور تیری آنکھنہ اس قدر بھی قمر شوخ دیدہ ہونا تھا

3

کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیںدِلِ حزیں تجھے اشکِ چکیدہ ہونا تھا

پناہِ دامنِ دشتِ حرم میں چین آتانہ صبرِِ دل کو غزالِ رمیدہ ہونا تھا

4

یہ کیسے کھلتا کہ ان کے سوا شفیع نہیںعبث نہ اَوروں کے آگے تپیدہ ہونا تھا

ہلال کیسے نہ بنتا کہ ماہِ کامل کوسلامِ ابروئے شہ میں خمیدہ ہونا تھا

6

ٹپکتا رنگِ جنوں عشقِ شہ میں ہر گُل سےرگِ بہار کو نشتر رسیدہ ہونا تھا

بجا تھا عرش پہ خاکِ مزارِ پاک کو نازکہ تجھ سا عرش نشیں آفریدہ ہونا تھا

7

گزرتے جان سے اِک شورِ ’’یا حبیب کے‘‘ ساتھفغاں کو نالۂ حلقِ بریدہ ہونا تھا

مِرے کریم گنہ زہر ہے مگر آخرکوئی تو شہدِ شفاعت چشیدہ ہونا تھا

8

جو سنگِ در پہ جبیں سائیوں میں تھا مٹناتو میری جان شرارِ جہیدہ ہونا تھا

تِری قبا کے نہ کیوں نیچے نیچے دامن ہوںکہ خاک ساروں سے یاں کب کشیدہ ہونا تھا

9

رؔضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیبتو پیارے قیدِ خودی سے رہیدہ ہونا تھا

حدائقِ بخشش

شیئر کریں:

© 2026 Naat Academy Organization

Notification
چینل جوائن کریں