اَدْرِکَاْسًا ونَاوْلِھَا
مجھے اے ساقی کوثر عطا کیجے وہ محفل میںنہ کوئی آرزو باقی رہے پینے کی پھر دل میںمیری ہر فکر میں اَحمد نگاہ و فہم میں احمدکوئی بھی آنہیں سکتا مِرے اب دل کے مَحْمِلْ میںکرم بھی ہے عطا بھی ہے سخا بھی ہے غنا بھی ہےیہ موتی مل گئے مجھ کو سبھی طیبہ کے ساحل میںجب ان کا نام لیتا ہوں نِدَا سے کام لیتا ہوںمری ناؤ نہیں آتی کسی لمحے بھی مشکل میںفقط الفت، محبت ہے موّدَث آپ کی آقاﷺکوئی رستہ نہیں باقی کسی کا بھی مرے دل میںرضا جو آپ نے مانگا اَدِرْ کَاْسًا ونَاولْھَاہمیں بھی ساتھ کر لیجئے اسی فرمانِ نَاوِلْ میںتُجھے دیوانگئ عشق ہی محشر میں کافی ہےکہاں گم ہوگیا حافؔظ تو راہ و رسمِ منزل میں(۷ ربیع النور شریف ۱۴۳۹ھ، ۲۶ نومبر ۲۰۱۷ء)