نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے
جمال و حسن کا منظر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہےنوال و جُود کا مظہر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہےنبوت اِنﷺ کی اعلیٰ ہے، رسالت اِنﷺ کی بالا ہےزمانہ دیکھ لے آکر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہےعطا اِن کی ہے دنیا میں، شفاعت اِن کی اُخریٰ میںیہی ہیں صاحبِ کوثر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہےخزانہ اِن کا بھاری ہے، عطا و فیض جاری ہےسخی یہ لُطف کا محور، نہ یہ کم ہے، نہ وہ کم ہےچمک ان کی زمانے میں، دمک دل کے خزانے میںیہ ساری خلق سے برتر، نہ یہ کم ہے، نہ وہ کم ہےہر اک صاحب ستارہ ہے، ولی ہر ایک پیارا ہےہیں دونوں باغ کے گل تر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہےجسے ہے اُلفتِ کامل، غلامی ہے اُسے حاصلتجھے حافظِ سرِ منبر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے(۲ اگست ۲۰۱۵ء ۱۶ شوال ۱۴۳۶ھ)