دلیل کُنْ فکاں تم ہو
حبیبِ کُلﷺ جہاں تم ہو دلیل کُنْ فَکاں تم ہوخلیل بزم وحدت ہو خدا کے رازداں تم ہوتم ہی تو جان رحمت ہو تمہیں شانِ نبوتﷺ ہوامام المرسلیںﷺ تم ہو ہر اک عالَم کی جاں تم ہومکین گنبد خضراء تمہارا وصف ہے ورنہحقیقت میں اگر دیکھیں مکین کُل جہاں تم ہوقرآں کے تیس پارے بھی فقط تم ہی پہ اترے ہیںتمہاری ذات ہے جامع ہر اک شی کا بیاں تم ہوہوئی ہے چاک تم سے ہی رِدائے ظُلمتِ عالممنور ہے جہاں تم سے کہ خورشید جہاں تم ہوابوبکر و عمر بھی تھے وہاں عثمان و حیدر بھینہ پائے جس حقیقت کو، وہ ہی سِّرِ نہاں تم ہووہ کوئی اور ہوں گے جو نہیں ملتے نشاں سے بھیمیں کیوں ڈھنڈوں تمہیں آقاﷺ یہاں تم ہو وہاں تم ہوہر اک محتاج و بیکس بس تمہارے پاس آتا ہےہر ایک نعمت میسّر ہے جہاں تم ہو جہاں تم ہوجہاں میں لاج رکھی ہے تم ہی نے اپنے حافؔظ کیسر محشر نکمّے کی اَماں تم ہو امَاں تم ہو(۶ صفر المظفر ۱۴۳۹ھ ۲۷ اکتوبر ۲۰۱۷ بوقت فجر) بروز جمعتہ المبارک