منقبت حضرت غوثِ اعظم
ہے مُرِیْدیْ لَا تَخَفْ جب اذنِ عامِ غوثِ پاککیوں نہ ہوں آزاد دوزخ سے غلامِ غوثِ پاکہے جہانِ معرفت میں احترامِ غوثِ پاکاللہ اللہ کِتنا ارفع ہے مقامِ غوثِ پاکمیں بھی دیکھوں پوچھتے ہیں مجھ سے کیا مُنکَر نکیرنزع میں لکھ دے جبیں پر کوئی نامِ غوثِ پاکآپ کے زیرِ قدم ہیں اولیاء کی گردنیںاے تعالی اللہ یہ اوجِ مقامِ غوثِ پاکمنہ میں پاتا ہوں حلاوت کوثر و تسنیم کیلب پہ جب بے ساختہ آتا ہے نامِ غوثِ پاکگلشنِ صد رنگ و بُو ہے مصرعہ مصرعہ شِعر شِعرہے بہشتِ معرفت گویا کلامِ غوثِ پاکان کا پَیر و اِک قدم ہٹتا نہیں اِسلام سےکس قدر مضبوط و محکم ہے نظامِ غوثِ پاکخلد بر کف اے مقدّس سرزمیں بغداد کیکب سے ہے تیرے لئے مضطر غلامِ غوثِ پاکوہ فضائے میکدہ اختؔر ہے فردوسِ نظربادۂ جیلاں، رضا کا ہاتھ، جامِ غوثِ پاک