Naat Academy Naat Academy
واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روزانہ نعت، درود اور اسلامی مواد

ہوم

سوشل میڈیا پر فالو کریں

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

کچھ اوجِ بارگاہ مدینہ کروں رقم

۞
1

قصیدہ سراپا رسول اکرمﷺ

کچھ اوجِ بارگاہ مدینہ کروں رقماے حور شاخ طوبیٰ سے لانا ذرا قلم

2

اللہ کس قدر ہے یہ دربار محتشمﷺبے اذن جبرئیل بھی رکھتے نہیں قدم

کوئی عجب نہیں ہے کہ ہو روکش ارممحبوب کا حرم ہے یہ محبوب کا حرم

3

آنکھیں نہیں، بچھے ہیں یہاں اہلِ دِل کے دلرکھیں قدم ادب سے سلاطین ذی حَشَم

زاہد حریم کعبہ کی تسلیم حُرمتیںلیکن رسولِ پاکﷺ سے منسوب وہ حرم

4

چھایا ہوا فضائے مدینہ یہ ابر ہےبرسے گا مے کشوں کے لئے لُکّۂ کرم

میری نظر میں صرف یہی وہ مقام ہےملتے ہیں جس مقام سے دنیا و دیں بہم

6

اس سرزمیں سے عرشِ بریں کو ہیں نسبتیںاس سرزمیں کا وادئ ایمن پہ ہے قدم

یہ آستاں ہے قبلہ نما و خدا نمایہ آستاں ہے کعبۂ ایماں کا مستلم

7

یہ آستاں ہے باعثِ تخلیق کائناتمربوط اس آستاں سے ہے ماوشما کا دم

شاہانِ کجکلاہ، گدایانِ بارگاہہیں ان کے خانہ زاد سلاطین زی حشم

8

دونوں جہاں کے ہیں وہی مخدوم و مقتدیٰدونوں جہاں انہیں کے ہیں محکوم و محکم

میں کیا کہ جبرئیل جو مدح و ثنا کریںواللہ اُس تمام سے ہیں افضل و اتم

9

بلکہ تمام دفترِ اوراقِ کائناتاس کی ثنا میں ایسے جیسے کہ یم سے نم

القصہ دو جہاں میں ہیں مخصوص آپ سےوہ رفعتیں کہ جن کا نہیں کوئی ہم قدم

10

موجیں سی اٹھ رہی ہیں سرور و نشاط کیلہریں سے لے رہا ہے دلِ بے نیازِ غم

توفیق خیر مجھ کو جو ربِ قدیر دےمضموں ہو اُن کے حسنِ سراپا کا مرتسم

11

تصویر ہے جمال و جلالِ الہٰ کییعنی وہ رخ ہے آئینۂ جلوۂ قِدَم

اللہ ان عذاروں کی جلوہ طرازیاںگوہا ہیں ایک برج میں شمس و قمر بہم

12

عرشِ بریں پہ پہنچوں اگر سر کا نام لوںچھیڑوں جو ذکر پا تو سرِ سروراں ہو خم

حیرت میں ہوں کہ گوہر دنداں کو کیا کہوںکہہ دوں جو کہکشاں کو دُرَر ہائے منتظم

13

سینہ ہے طور سینا تو دل مرکزِ جماللب مصدرِ فیوض، دہن منبع حِکَم

تبیان ہو جو اُن کے بیان و زبان کابے جا نہیں، عرب کو میں کہہ دوں اگر عجم

14

جیسے سواد بحر پہ کرنیں ہوں موجزنیوں ہیں جبیں پہ جلوہ فگن موجۂ کرم

ترساں ہیں گیر و ترسا، عجب رعب و داب ہےلرزاں ہیں ان کے نام سے بت خانوں میں صنم

15

تسنیم و سلسبیل کا صدقہ مجھے بھی دوکوثر کے شاہ، ساقئی میخانۂ حَرَم

یہ روسیاہیاں نہ کریں روسیاہ مجھےمیرے حضور، دافع کرب و غم و الم

16

لوٹا ہے مجھکو دردِ غم روزگار نےتوڑا ہے مجھ پہ گردشِ ایام نے ستم

اور اس پہ میری شامتِ اعمال مستزادتردامنی کے ساتھ تہی دامنی کا غم

17

ہر کس متاعِ خویش را دارد بہائے بیشآں روسیاہ کہ ہیچ میرزد منم منم

بد ہوں مگر میں اچھے ۱؎ میاں کا غلام ہوںغوث الوریٰ کا صدقہ خدایا کرم کرم

18

یارب تجھے انہیں کی اداؤں کا واسطہیارب تجھے انہیں کی رضا جوئی کی قسم

مولیٰ ہَوں، بے حساب عطایا مجھے عطایعنی بقدرِ جرم و خطا ہو ترا کرم

19

ہو اپنے مرشدوں کے جِلو میں جہاں رضا یعنی جہاں ہو سایہ کناں قادری علم

اور غلغلہ جہاں پہ محمد میاں کا ہوہوں خیمہ زن جہاں مرے سرکار کے قدم

20

فرمائیں مجھ سے شاہِ مدینہ کہ ہاں خلیؔلمحبوب کا حرم ہے یہ محبوب کا حرم

اور میں کروں یہ عرض کہ بندے کی کیا بساطکچھ شانِ بارگاہِ مدینہ کرے رقم

21

آئے پسندِ خاطر اقدس مرا کلامسرکار کا کرم ہے یہ سرکار کا کرم

سن کر مرا قصیدہ یہ فرمائیں شاہِ دیںتو مستحق ہے خلعتِ فاخَر کا، لاجرم

22

اتنے میں قدسیوں سے اٹھے شور مرحبااور میں کہوں کہ یہ بھی ہے منجملۂ کرم

شیئر کریں:

© 2026 Naat Academy Organization

Notification
چینل جوائن کریں