ہیں نغمہ سنج ہرسو، ہر طرف شور عنادل ہےکہ گردون ولایت پر طلوع ماہ کامل ہے
مبارک آمد جان بہاراں اہل گلشن کوہیں کلیاں شادماں ہر ایک غنچہ آج خوش دل ہے
یہ کس کے حسن محشر خیز کی ہے جلوہ فرمائیکہ کوئی نیم جاں کوئی مثال مرغ بسمل ہے
یہی ہیں فاتح خیبر یہی ہیں جان پیغمبرﷺوہاں کیسے گماں پہنچے جہاں پر ان کی منزل ہے
بجھائی تشنگی کربل کی اپنے خوں کے دھاروں سےسخی کتنا حسین شیر اسد اللہ کا دل ہے
لیا ہے چن انھیں حق نے برائے زینت کعبہخدا کا گھر جسے کہتے ہیں وہ حیدر کی منزل ہے
کرے دہن بشر وصف علی ہرگز نہیں ممکنکہ جن کی تیغ عریاں قہر بہر قلب باطل ہے
فلک کو رشک ہے اے ارضِ کعبہ تیری قسمت پرکہ تیری گود میں اعداء دین حق کا قاتل ہے
نہیں کوئی معاون خویش بنگانہ ہمارے ہیںمدد کر دو مرے مشکل کشا اندوہگیں دل ہے
زمانہ کے لئے یہ اک معمہ ہے مگر اخؔترمحبت سے جو ان کی پُر ہو بس دل تو وہی دل ہے