ادھر نہیں یا اُدھر نہیں ہے نبیﷺ کا جلوہ کدھر نہیں ہےمگر جمالِ نبیﷺ کو دیکھے بشر کی ایسی نظر نہیں ہے
وفور دیوانگی یہ کیسی یہ شور کیسا در نبیﷺ پروہ واقفِ راز دل ہیں اختر تجھے یہ شاید خبر نہیں ہے
فلک جو دیکھے مرے قمر کو تو بھول جائے قمر کو اپنےچھپالے ابرِ سیاہ جس کو مرا قمر وہ قمر نہیں ہے
قسم خدا کی وہ دل نہیں ہے تری محبت ہے جو ہو خالیوہ آنکھ بھی کوئی آنکھ ہے جو تری جدائی سے تر نہیں ہے
عجب ہے لطف غمِ نبیﷺ بھی نہیں اسے حاجت مداوادوا ہو جس درد کا مداوایہ ایسا دردجگر نہیں ہے
اٹھا دو للّلہ اٹھا دو للّلہ نقاب روئے قمر فشاں کودکھا دو جلوہ کہ تیرے بیمار کو امید سحر نہیں ہے
یہ مانتاہوں تری نظر میں مری نظر ہے قمر یہ لیکنمیں ان کے تلوؤں کو دیکھتا ہوں مری نظر چاند پر نہیں ہے
ہے مثل اپنے ہتھیلیوں کے زمانۂ ماضی و مضارعوہ کون سی شئے ہے عقل والو جو ان کے پیش نظر نہیں ہے
خدا کے پیارے سے ہو کے بدظن خدا کو بھی کر لیا ہے دشمنارے منافق تجھے ہوا کیا ذرا بھی خوفِ سقر نہیں ہے
بربِّ کعبہ کریں گے خود رہبری تمھاری وہ غائبانہرہِ طلب میں تجھے اب اخؔتر ضرورت راہبر نہیں ہے