پشیماں نہ ہوں شرمساروں سے کہہ دونبیﷺ آگئے غم کے ماروں سے کہہ دو
مجھے بھاگئے ہیں کھجوروں کے جھرمٹذرا خلد کے سبزہ زاروں سے کہہ دو
محمدﷺ چلے ہیں سوئے عرشِ اعظمادب سے رہیں چاند تاروں سے کہہ دو
زمانے کے اندھوں کو احمد کی منزلبتادیں ذرا تیس پاروں سے کہہ دو
مجھے خواب ہی میں نظارہ کرادیںمدینے کے دلکش نظاروں سے کہہ دو
ذرا چھیڑدیں نغمۂ نعت احمدمیری زندگی کے ستاروں سے کہہ دو
ہے جان گلستاں کی آمد چمن میںہوں جاروب کش نو بہاروں سے کہہ دو
یہی تو ہیں اخؔتر مری زندگانینہ ہوں سرد دل کے شراروں سے کہہ دو