ہمیشہ جوش پر بحرِ کرم ہے میرے خواجہ کازمانہ بندۂ جود و نعم ہے میرے خواجہ کا
نچھاور ہے متاعِ دوجہاں اس دل کی قیمت پرکہ نامِ پاک جس دل پر رقم ہے میرے خواجہ کا
منور ہند کا ظلمت کدہ خواجہ کے دم سے ہےدیارِ ہند ممنونِ کرم ہے میرے خواجہ کا
نوازش ہے کہ دریا بہہ رہا ہے فیض ورحمت کازمانے پر سدا لطفِ اتم ہے میرے خواجہ کا
نگوں ہوکر رہا ہر ایک کا پرچم زمانے میںبلندی پر نصب اب تک ہے پرچم میرے خواجہ کا
ہزاروں پرچمِ شوکت اڑے اور مٹ گئے آخربلندی پر نصب اب تک ہے پرچم میرے خواجہ کا
درِ اقدس کا ہر ذرّہ غبارِ طورِ سینا ہےدل ِ روشن گزر گاہِ حرم ہے میرے خواجہ کا
ہزاروں قافلے عرفان کی منزل پہ جا پہنچےچراغِ رہ گذر نقشِ قدم ہے میرے خواجہ کا
سلاطینِ جہاں بھی سنگِ در کی خاک ملتے ہیںتعالیٰ اللہ وہ جاہ وحشم ہے میرے خواجہ کا
کہاں سے آرہی ہے حشر میں آواز ارؔشد کیگنہگارو چلو باغِ ارم ہے میرے خواجہ کا