خدائی کے لائق سردار، یا رب!سبھی جز و کُل کا خبر دار، یا رب!
کروں کس سبب کا سہارا بھروسہتوئی خضر سب کا مددگار، یا رب!
تِری رحمتوں کا ہزاروں کڑوڑوںرواں ہے یہاں بحرِ زخّار، یا رب!
کروں کس زباں سے بھلا حمد تیریزباں میں نہیں تاب ِ گفتار، یا رب!
دل افسردۂ تشنہ کام جاں ہوںزباں خشک ہوں صورتِ خار، یا رب!
عطا کر مِری آرزوئے دلی کیتمنّا سے دل کی خبردار، یا رب!
خبیر و علیم و سمیع اور ناظریہ سب وصف تیرے نمودار، یا رب!
نہیں تیرے اوصاف کی حدّ و غایتکہاں تک کرے کوئی اظہار، یا رب!
توئی منعم و معطیِ ہر عطا ہےکرے جود و بخشش بھی بسیار، یا رب!
مجھے بخش دے اے بڑے رحم والےتِرا نام ستار و غفار، یا رب!
تِرے در سے محروم جائے نہ کافؔینہیں تجھ سوا یاور و یار، یا رب!