جس نے مشکل میں کبھی تم کو پکارا ہوگاتم نے فی الفور دیا اس کو سہارا ہوگا
ڈوبتے ڈوبتے کب چاند نے سوچا ہوگااس کے چھپنے سے جہاں میں کیا اندھیرا ہوگا
شمع پُر نور بریلی پہ پتنگے ٹوٹےہند نے کب بھلا دیکھا یہ نظارا ہوگا
جام نوری نے بنایا انہیں ایسا نوریروز و شب مرقد نوری پہ اجالا ہوگا
ستر پوشی کو بڑھا ہاتھ سنبھالی چادربعد مرنے کے کسے پاس شرع کا ہوگا
میرے مرشد یہ بتاتے ہوئے دنیا سے گئےوہ ہے زندہ جو مرے یار پہ مرتا ہوگا
روز محشر یہ ہے ریحاؔن عقیدہ اپناکہ مِرے پیر کا سر پہ میرے سایہ ہوگا