ہے دل کو تری جستجو غوث اعظمزباں پر تری گفتگو غوث اعظم
ترا ذکر گلشن میں بلبل کے لب پرگلوں میں ترا رنگ و بو غوث اعظم
نظر میں کوئی خوبرو کیا سمائےبسا میری آنکھوں یں تو غوث اعظم
ہیں سورج اگر مصطفیٰ چاند ہے توہیں جلوے ترے چار سو غوث اعظم
لگا زخم تیغِ معاصی کا دل پرتو رحمت سے کردے رفو غوث اعظم
مدد کرمیں ہوں ناتواں اور تنہاہیں اعدا بہت جنگجو غوث اعظم
قوی کر قوی مجھ کو دے ایسی قوتکہ ہو سرنگوں ہر عد و غوث اعظم
عمل پوچھے جاتے ہیں مجھ سے لحد میںترے ہاتھ ہے آبرو غوث اعظم
طفیل حسین و حسن لاج رکھ لےترے ہاتھ ہے آبرو غوث اعظم
حساب و کتاب اور مرا ہاتھ خالیتو آجا مرے رو برو غوث اعظم
نہ مجھ سا کوئی تیرہ دل پر معاصینہ تجھ سا کوئی ماہرو غوث اعظم
نکیرین اب مجھ سے چاہو پوچھوکہ آئے مرے رو برو غوث اعظم
خدا جانے کیا حال ہوتا ہمارانہ ہوتا اگر سر پہ غوث اعظم
بچائیے غلاموں کو بہر پیمبرچلی کفرو بدعت کی لو غوث اعظم
خدا کی قسم میرے دل میں بھری ہےتری دید کی آرزو غوث اعظم
ملیں اب تو بغداد کی مجھ کو گلیاںمیں کب تک پھروں کو بکو غوث اعظم
جمیل اپنے مرشد کے قربان جاؤںکہ وہ گل اور ان میں بو غوث اعظم
قبالۂ بخشش