گُل سے کچھ الفت نہ مجھ کو گلستاں سے اختصاصہے مگر مدحِ شفیعِ عاصیاں سے اختصاص
جو ہوا مشغولِ اوصافِ جنابِ مصطفیٰﷺاُس کو حاصل ہوگیا ا ہلِ جناں سے اختصاص
ہو نحو میں خوشہ چینِ خرمنِ مدحِ شریفہے مد یحِ خاتمِ پیغمبراں سے اختصاص
تجربے کی بات ہے جس نے کیا وِردِ دُروداُس نے حاصل کر لیا امن و اماں سے اختصاص
کب تلک شوقِ زباں سے، چل مدینے کی طرفیاں کی الفت چھوڑ کاؔفی کر وہاں سے اختصاص