گلبار داغِ ہجرِ نبیﷺ اس قدر رہےآٹھوں پہر بہشت بداماں نظر رہے
مجھ کو رہِ عدم میں نہ خوف و خطر رہےیادِ جمالِ رُوئے نبیﷺ ہم سفر رہے
رہرو! رہِ حرم ہے ادب پر نظر رہےآنسو یہاں کوئی نہ گرے چشم تر رہے
یارب! نہ زخمِ ہجرِ مدینہ ہو مُند مِلیہ دِل الہٰ باد، محمّد نگر رہے
گم کر دے کاش ان کی محبت میں یوں خدااپنے وجود کی بھی نہ مجھ کو خبر رہے
دل کی تڑپ نہ کم ہو حضوری کے بعد بھییارب یہ دلنواز خلش عمر بھر رہے
اختؔر رہِ حیات میں پائی رہِ نجاتہر گام پر اصولِ رضؔا راہبر رہے