چمکتے چمکتے
گئے لامکاں کو چمکتے چمکتےہوئی واپسی پھر دمکتے دمکتےصبا لائی شاید مدینے کی خوشبومیری سانس چل دی اٹکتے اٹکتےمجھے پھر بلایا نبیﷺ نے مدینےمیں چلتا گیا دل دھڑکتے دھڑکتےجو تکتا رہا چہرۂ مصطفیﷺ کوہوئی دید پلکیں جھپکتے جھپکتےنبیﷺ نے نگاہِ کرم ایسی ڈالیگُنَہ جل گئے سب سلگتے سلگتےنزع میں رخِ مصطفیٰﷺ کو جو دیکھامیری روح چلدی مہکتے مہکتےمجھے روزِ محشر پکارا نبیﷺ نےقرار آگیا پھر مچلتے مچلتےنبیﷺ کی شفاعت ہی بس کام آئیمیں جنت میں پہنچا لہکتے لہکتےگناہوں میں ڈوبا تھا حافؔظ تمہاراتمہیں دیکھا، ابھرا، سنبھلتے سنبھلتے۱۲ رجب المرجب ۱۴۳۶ھ ۲ مئی ۲۰۱۵ء نزیل ماریشس