کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظممٹا قلب کے بے کلی غوث اعظم
مرے چاند میں صدقے آجا ادھر بھیچمک اٹھے دل کی گلی غوث
ترے رب نے مالک کیا تیرے جد کوترے گھر سے دنیا پلی غوث اعظم
وہ ہے کون ایسا نہیں جس نے پایاترے در پہ دنیا ڈھلی غوث اعظم
کہا جس نے یا غوث اغثنی تو دم میںہر آئی مصیبت ٹلی غوث اعظم
نہیں کوئی بھی ایسا فریادی آقاخبر جس کی تم نے نہ لی غوث اعظم
مری روزی مجھ کو عطا کردے آقاترے در سے دنیا نے لی غوث اعظم
نہ مانگوں میں تم سے تو پھر کس سے مانگوںکہیں اور بھی ہے چلی غوث اعظم
صداگر یہاں میں نہ دوں تو کہاں دوںکوئی اور بھی ہے گلی غوث اعظم
جو قسمت ہو میری بری اچھی کر دےجو عادت ہو بد کر بھلی غوث اعظم
ترا مرتبہ اعلیٰ کیوں ہو نہ مولیٰتو ہے ابن مولیٰ علی غوث اعظم
قدم گردن اولیا پر ہے تیراہے تو رب کا ایسا ولی غوث اعظم
جو ڈوبی تھی کشتی وہ دم میں نکالیتجھے ایسی قدرت ملی غوث اعظم
ہمارا بھی بیڑا لگادو کنارےتمہیں نا خدائی ملی غوث اعظم
تباہی سے ناؤ ہماری بچادوہوائے مخالف چلی غوث اعظم
تجھے تیرے جد سے انہیں تیرے رب سےہے علم خفی و جلی غوث اعظم
مرا حال تجھ پر ہے ظاہر کہ پتلیتری لوح سے جا ملی غوث اعظم
خدا ہی کے جلوے نظر آئے جب بھیتری چشم حق بیں کھلی غوث اعظم
فدا تم پہ ہو جائے نورؔی مضطریہ ہے اس کی خواہش دلی غوث اعظم
سامانِ بخشش