واہ کیا جلوۂ اعجاز تھا آنا جاناشبِ اِسرا میں عجب ناز تھا جانا آنا
دیکھ اُس جلوۂ رفتار کو حیراں تھے مَلکحیرت ِ دیدۂ پرواز تھا جانا آنا
عرشِ اکبر پہ گئے دور کروڑوں منزلکیا ہی ممتاز سر افراز تھا جانا آنا
ساعتِ چند میں دیکھو تو کہاں تک پہنچےحق کے محبوب کا اِک ناز تھا جانا آنا
ایسی معراج بھلا کس کو ملی ہے، کافؔی!دل رُبایانہ اک انداز تھا جانا آنا