Naat Academy Naat Academy
واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روزانہ نعت، درود اور اسلامی مواد

ہوم

سوشل میڈیا پر فالو کریں

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دُنیا کے ساماں میں

۞
1

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دُنیا کے ساماں میںتمھیں دُولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ امکاں میں

یہ رنگینی یہ شادابی کہاں گلزارِ رضواں میںہزاروں جنتیں آ کر بسی ہیں کوے جاناں میں

2

خزاں کا کس طرح ہو دخل جنت کے گلستاں میںبہاریں بس چکی ہیں جلوۂ رنگینِ جاناں میں

تم آئے روشنی پھیلی ہُوا دن کھل گئی آنکھیںاندھیرا سا اندھیرا چھا رہا تھا بزمِ اِمکاں میں

3

تھکا ماندہ وہ ہے جو پاؤں اپنے توڑ کر بیٹھاوہی پہنچا ہوا ٹھہرا جو پہنچا کوے جاناں میں

تمہارا کلمہ پڑھتا اُٹھے تم پر صدقے ہونے کوجو پائے پاک سے ٹھوکر لگا دو جسمِ بے جاں میں

4

عجب انداز سے محبوبِ حق نے جلوہ فرمایاسُرور آنکھوں میں آیا جان دل میں نور ایماں میں

فداے خار ہاے دشتِ طیبہ پھول جنت کےیہ وہ کانٹے ہیں جن کو خود جگہ دیں گل رگِ جاں میں

6

کلیم آسا نہ کیونکر غش ہو اُن کے دیکھنے والےنظر آتے ہیں جلوے طور کے رُخسارِ تاباں میں

ہوا بدلی گھرے بادل کھلے گل بلبلیں چہکیںتم آئے یا بہارِ جاں فزا آئی گلستاں میں

7

کسی کو زندگی اپنی نہ ہوتی اِس قدر میٹھیمگر دھوون تمہارے پاؤں کا ہے شیرۂ جاں میں

اُسے قسمت نے اُس کے جیتے جی جنت میں پہنچایاجو دم لینے کو بیٹھا سایۂ دیوارِ جاناں میں

8

کیا پروانوں کو بلبل نرالی شمع لائے تمگرے پڑتے تھے جو آتش پہ وہ پہنچے گلستاں میں

نسیمِ طیبہ سے بھی شمع گل ہو جائے لیکن یوںکہ گلشن پھولیں جنت لہلہا اُٹھے چراغاں میں

9

اگر دودِ چراغ بزمِ شہ چھو جائے کاجل سےشبِ قدرِ تجلی کا ہو سرمہ چشمِ خوباں میں

کرم فرمائے گر باغِ مدینہ کی ہوا کچھ بھیگل جنت نکل آئیں ابھی سروِ چراغاں میں

10

چمن کیونکر نہ مہکیں بلبلیں کیونکر نہ عاشق ہوںتمہارا جلوۂ رنگیں بھرا پھولوں نے داماں میں

اگر دودِ چراغِ بزم والا مَس کرے کچھ بھیشمیمِ مشک بس جائے گل شمعِ شبستاں میں

11

یہاں کے سنگریزوں سے حسنؔ کیا لعل کو نسبتیہ اُن کی راہ گزر میں ہیں وہ پتھر ہے بدخشاں میں

ذوقِ نعت

شیئر کریں:

© 2026 Naat Academy Organization

Notification
چینل جوائن کریں