دعا
نہ مجھ کو خدا ، مال و زر چاہیئےنہ یاقوت و لعل و گوہر چاہیئے
نہ کوئی رسُوخ و اثر چاہیئےفقط تیری سیدھی نظر چاہیئے
زمانہ کی خوبی زمانے کو دےمجھے صرف دردِ جگر چاہیئے
رہے جس میں عشقِ حبیبِ خداﷺوہ دل وہ جگر اور وہ سر چاہیئے
کوئی راج چاہے کوئی تخت و تاجمجھے تیرے پیارے کا در چاہیئے
بنے جس میں تقدیر بگڑی ہوئیالٰہی مجھے وہ ہنر چاہیئے
ہیں دنیا میں لاکھوں بشر پر وہاںخبر کیلئے بے خبر چاہیئے
خزانے سے رب کے جو چاہو سو لونبی کی غلامی مگر چاہیئے
دعائیں تو سالکؔ بہت ہیں مگراثر کیلئے چشمِ تر چاہیئے