شراب خلد کی اے دوست گفتگو کیا ہےزُلالِ شہ ہو میسّر تو یہ سبو کیا ہے
عذابِ نار خبر ہمیں کہ تو کیا ہےمگر کسی کی شفاعت کے روبرو کیا ہے
خیال زلفِ رخِ شہ میں غرق رہتا ہوںنہ پوچھئے مری دنیائے رنگ بو کیا ہے
جو تیری راہ میں پائیں قبولیت کا شرفتو لاکھ جانیں بھی قرباں یہ اک گلو کیا ہے
خدا گواہ مری ہر مراد بر آئےحضور اتنا جو کہہ دیں کہ آرزو کیا ہے
خلیؔل تجھ سا سیاہ کار اور نعتِ نبیﷺیہ فیض مرشدِ برحق ہے ورنہ تو کیا ہے