میرا دردِ جگر کارگر ہوگیامنتظر تھا مگر منتظر ہوگیا
سارا عالم سمٹ کے اُدھر آگیاتیرا رخ جانِ عالم جدھر ہوگیا
تیری ناراضگی باعثِ مرگ ہےموت کیسی؟ ہمارا تو گر ہوگیا
میری آنکھوں کو معراج سی مل گئیجب سے تر آپ کاسنگ در ہوگیا
اے غمِ ہجر احمد ترا شکریہوجہ تسکین دردِجگر ہوگیا
کیوں نہ دل میرا اب خانہ نور ہوآمنہ کے دلارےﷺ کا گھر ہوگیا
خلد کی ساری رنگینیاں ہیچ ہیںگلشن یار پیش نظر ہوگیا
جس طرف دیکھئے نور ہی نور ہےنازشِ مہرو مہ جلوہ گر ہوگیا
میری جانب نظر کا اٹھانا ہی تھابخت اخؔتر بھی رشک قمر ہوگیا