لب پہ اشعار تِرے وصف میں جب آتے ہیںتذکرہ عرش پہ قدسی مرا فرماتے ہیں
ان کے تلووں سے جو ذرّات چمٹ جاتے ہیںبخدا عرش کے تارے وہی کہلاتے ہیں
تِری راہوں میں کچھ ایسے بھی مقام آتے ہیںمنزلِ قربِ الہٰی سے جو مِل جاتے ہیں
مدنی چاند تِرا ذکر جہاں ہوتا ہےعالمِ قدس کے انوار اُتر آتے ہیں
خلد کی سمت چلا، کوئی حرم کی جانباُن کے دیوانے مدینے کی طرف جاتے ہیں
مرتبہ تیرے غلاموں کا کوئی کیا جانے؟جب مَلَک آنکھ مِلاتے ہوئے شرماتے ہیں
رات دن سوئے مدینہ ہے نظر اے اختؔریاد کب دیکھئے آقاﷺ مجھے فرماتے ہیں