قبول بندۂ درکا سلام کرلیناسگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا
مرے گناہوں کے دفتر کھلیں جو پیشِ خداحضور اس گھڑی تم لطف عام کرلینا
جو چاہتے ہوکہ سرد آتشِ دوزخدلوں پہ نقشِ محمد کا نام کرلینا
ملاہے خوب ہی نسخہ گناہگاروں کوتمہارے نام سے دوزخ حرام کرلینا
تمہارے حسن میں رکھ کر کشش کہا حق نےکہ دشمنوں کو دکھا کر غلام کرلینا
یہ ہے حضورکا ہی مرتبہ شب معراجبغیر واسطہ رب سے کلام کرلینا
حبیب عرش سےبھی پار جاکے رب سے ملےکلیم کو تھا میسّر کلام کرلینا
خدانے کہہ دیا محبوب سے کہ محشر میںگناہگاروں کا تم انتظام کرلینا
ہے نزع و قبر و قیامت کا خوف اگر تم کوتو وردِ نام نبی صبح و شام کرلینا
مدینے جاتے ہیں زائر تو ان سے کہتا ہوںمری طرف سے بھی عرض اک سلام کرلینا
جمیل قادری اٹھو جو عزم طیبہ ہےچلو یہ عمر وہیں پرتمام کرلینا
قبالٔہ بخشش