(عرض بارگاہ غوثیہ) غوث اعظم مِرے ہر دُکھ
غوث اعظم مِرے ہر دکھ کا ازالہ کر دیںقبلہء دین و عمل روح اُجالا کر دیںمیرا ھر کام جو بگڑا ہے وہ اعلیٰ کر دیںمیرے حق میں یہی دستور نرالا کر دیںجو کرم آپ کا جاری ہوا رھزن پر بھیاب عطا مجھ کو وہ رحمت کا پیالہ کر دیںمیرے اعمال تو دن رات ہی پستی میں رہےآپ چاہیں تو انہیں پل میں ہمالا کر دیںجس کے کھانے سے رہوں عبدِ حبیب مولامیرے انعام میں شامل وہ نوالہ کر دیںہر گھڑی حمدِ خدا، نعت نبیﷺ ہو لب پرشَہِ جیلاں میرے الفاظ دوبالا کر دیںدر آقاﷺ سے ملے مجھ کو ردائے رحمتآپ ہی نظر عنایت سے جو اولیٰ کر دیںعشق عینؔی بھی ملے حُبِّ رضؔا نوریؔ بھیاپنے اس قادری بندے کو بھی والا کر دیںجھڑ گئے تیرے گناہ، غیث شہا سے حافؔظمیں شرابور رہوں مجھ پہ وہ جھالا کر دیں(۱۴ جنوری ۲۰۱۷۔ ۱۵ ربیع الاخر ۱۴۳۸ھ)