طبل و علم و جاہ نہ زر ڈھونڈ رہا ہوںاللہ کے محبوب کا گھر ڈھونڈ رہا ہوں
ہو جس کے سامنے رخ پُر نور ہر گھڑیاے اہل نظر ایسی نظر ڈھونڈ رہا ہوں
ہر در مری ٹھوکر میں ہے اس در کے مقابلاے ناصیہ سائی میں وہ در ڈھونڈ رہا ہوں
ہوں جلوہ فگن یادمحمدﷺ کے ستارےمیں وہ فلک دیدۂ تر ڈھونڈ رہا ہوں
ہے ہوش کی دیوانگی اک رمز ہے اس میںگیتی پہ میں جبرئیل کے پر ڈھونڈ رہا ہوں
اللہ رے میرے شوق تجسس کو تو دیکھومسکن ہے میرے دل میں مگر ڈھونڈ رہا ہوں
طیبہ کی زمیں مسکن اعلیٰ ہے کہ اخؔتراس خاک کی میں راہگذر ڈھونڈ رہا ہوں