Naat Academy Naat Academy
واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روزانہ نعت، درود اور اسلامی مواد

ہوم

سوشل میڈیا پر فالو کریں

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے

۞
1

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہےجس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے

گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہےنا شکر! یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے

2

کس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفاتجھ کو قسم جنابِ مسیحا کے سر کی ہے

آبِ حیاتِ روح ہے زرقا کی بوند بونداکسیرِ اعظمِ مسِ دل خاکِ در کی ہے

3

ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائےحیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے

لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سُنا کیےہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے

4

وہ دیکھو جگمگاتی ہے شب اور قمر ابھیپہروں نہیں کہ بست و چہارم صفر کی ہے

ماہِ مدینہ اپنی تجلّی عطا کرے!یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے

6

کعبے کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہاپوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے

کعبہ بھی ہے انھیں کی تجلّی کا ایک ظلروشن انھیں کے عکس سے پتلی حجر کی ہے

7

ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰلَوْلَاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے

مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نمازاور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے

8

صدّیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکےاور حفظِ جاں تو جان فروضِ غُرَر کی ہے

ہاں تو نے اِن کو جان، اُنھیں پھیر دی نمازپر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے

9

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیںاصل الاصول بندگی اس تاجْوَر کی ہے

شر خیر شور سور شرر دور نار نور!بشریٰ کہ بارگاہ یہ خیر البشر کی ہے

10

مجرم بلائے آئے ہیں جَاءُوْک ہے گواہپھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

بد ہیں مگر انھیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہمنجدی نہ آئے اس کو یہ منزل خطر کی ہے

11

تف نجدیت نہ کفر نہ اسلام سب پہ حرفکافر اِدھر کی ہے نہ اُدھر کی اَدھر کی ہے

حاکم ، حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیںمردود یہ مُراد کس آیت، خبر کی ہے

12

شکلِ بشر میں نورِ الٰہی اگر نہ ہو!کیا قدر اُس خمیرۂ ما و مدر کی ہے

نورِ الٰہ کیا ہے محبّت حبیب کیجس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے

13

ذکرِ خدا جو اُن سے جُدا چاہو نجدیو!واللہ! ذکرِ حق نہیں کنجی سقر کی ہے

بے اُن کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرےحاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے

14

مقصود یہ ہیں آدم و نوح و خلیل سےتخمِ کرم میں ساری کرامت ثمر کی ہے

اُن کی نبوّت ، اُن کی اُبوّت ہے سب کو عاماُمُّ البشر عروس اُنھیں کے پسر کی ہے

15

ظاہر میں میرے پھول حقیقت میں میرے نخلاس گُل کی یاد میں یہ سدا بو البشر کی ہے

پہلے ہو اُن کی یاد کہ پائے جِلا نمازیہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے

16

دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفور ہیںہر منزل اپنے چاند کی منزل غفر کی ہے

اُن پر دُرود جن کو حجر تک کریں سلاماُن پر سلام جن کو تحیّت شجر کی ہے

17

اُن پر دُرود جن کو کسِ بے کساں کہیںاُن پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے

جنّ و بشر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامیہ بارگاہ مالکِ جنّ و بشر کی ہے

18

شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامخوبی انھیں کی جوت سے شمس و قمر کی ہے

سب بحر و بر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامتملیک اُنھیں کے نام تو ہر بحر و بر کی ہے

19

سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامکلمے سے تر زبان درخت و حجر کی ہے

عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامملجا یہ بارگاہ دُعا و اثر کی ہے

20

شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامراحت انھیں کے قدموں میں شوریدہ سر کی ہے

خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَاممرہم یہیں کی خاک تو خستہ جگر کی ہے

21

سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامیہ جلوہ گاہ مالکِ ہر خشک و تر کی ہے

سب کرّ و فر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامٹوپی یہیں تو خاک پہ ہر کرّ و فر کی ہے

22

اہلِ نظر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَامیہ گرد ہی تو سُرمہ سب اہلِ نظر کی ہے

آنسو بہا کہ بہہ گئے کالے گنہ کے ڈھیرہاتھی ڈوباؤ جھیل یہاں چشمِ تر کی ہے

23

تیری قضا خلیفۂ احکامِ ذِی الجلالتیری رضا حلیف قضا و قدر کی ہے

یہ پیاری پیاری کیاری تِرے خانہ باغ کیسرد اس کی آب و تاب سے آتش سقر کی ہے

24

جنّت میں آکے نار میں جاتا نہیں کوئیشکرِ خدا نوید نجات و ظفر کی ہے

مومن ہوں، مومنوں پہ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡم ہوسائل ہوں، سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے

25

دامن کا واسطہ مجھے اُس دھوپ سے بچامجھ کو تو شاق جاڑوں میں اِس دوپہر کی ہے

ماں، دونوں بھائی، بیٹے، بھتیجے، عزیز، دوستسب تجھ کو سونپے مِلک ہی سب تیرے گھر کی ہے

26

جن جن مرادوں کے لیے احباب نے کہاپیشِ خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے

فضلِ خدا سے غیبِ شہادت ہوا انھیںاس پر شہادت آیت و وحی و اثر کی ہے

27

کہنا نہ کہنے والے تھے جب سے تو اطلاعمولیٰ کو قول و قائل و ہر خشک و تر کی ہے

اُن پر کتاب اتری بَیَانًا لِّکُلِّ شَیْءتفصیل جس میں مَا عَبَر و مَا غَبَر کی ہے

28

آگے رہی عطا وہ بقدرِ طلب تو کیاعادت یہاں امید سے بھی بیشتر کی ہے

بے مانگے دینے والے کی نعمت میں غرق ہیںمانگے سے جو ملے کسے فہم اس قدر کی ہے

29

اَحباب اس سے بڑھ کے تو شاید نہ پائیں عرضناکردہ عرض عرض یہ طرزِ دگر کی ہے

دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہوگی آبندّی گلے گلے مِرے آبِ گُہر کی ہے

30

دشتِ حرم میں رہنے دے صیّاد اگر تجھےمٹّی عزیز بلبلِ بے بال و پر کی ہے

یا رب! رضؔا نہ احمدِ پارینہ ہو کے جائےیہ بارگاہ تیرے حبیبِ اَبَر کی ہے

31

توفیق دے کہ آگے نہ پیدا ہو خوئے بدتبدیل کر جو خصلتِ بد پیشتر کی ہے

آ کچھ سُنا دے عشق کے بولوں میں، اے رضؔا!مشتاق طبع لذّتِ سوزِ جگر کی ہے

32

حدائقِ بخشش

شیئر کریں:

© 2026 Naat Academy Organization

Notification
چینل جوائن کریں