سیمائے کفر جبہہ کلیسا جھکا گئیکیا شان حیدری تھی زمانہ پہ چھاگئی
ہر سو چھلک رہی ہے مئے کیف و انبساطباد نسیم آکے یہ کیا گنگنا گئی
رکھا چھپا کے پردۂ تطہیر میں اسےاللہ کو بھی آپ کی تصویر بھا گئی
اپنی مناؤ خیر مری بدنصیبومولائے کائنات کی تشریف آگئی
تن بستر رسولﷺ پہ دل عرشِ آشیاںدنیا سمجھ رہی تھی انھیں نیند آگئی
دنیا کی زندگی بھی تو ہے مشکلات سےکیسے کہوں کہ حاجت مشکل کشا گئی
بخت سیہ چمک کہ چمکنے کا وقت ہےماہ رجب کی تیرھویں تاریخ آگئی
اخؔتر طلسم نرگس رعنا نہ پوچھئےاپنے تو اپنے غیر کو اپنا بنا گئی