سُنیں گے وہ، بپا ہے شورِ داروگیر امت میںیہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں
اَماں جو عاصیوں کو مِل گئی دامانِ رحمت میںیہ جرأت ہے کہ بے باکانہ جائینگے قیامت میں
وہ وَاحدْ لاَ شَریکَ لَہٗ، ہے یکتا اپنی وحدت میںمحمد مصطفٰی ﷺ کو کر دیا، یکتا نبوّت میں
وہاں تھا لَنْ تَرَانِیْ، رَبِّ اَرِنِیْ کی تمنّا پرنہ تھی تابِ تجلّی حضرت موسی کی قسمت میں
شبِ اسریٰ تقاضہ اُدْنُ یَا اَحمد ﷺ مسلسل تھاکہ محبوبِ خدا بڑھ کر ہیں سب سے اپنی رفعت میں
عمل، محبوب کو راضی کرے جو، وہ محبت ہےکہ نافرمانئ محبوب خامی ہے محبت میں
نِرا ایمان کا دعویٰ تو لاحاصل ہے مومن کادلیل ایمان کی خود کو مِٹا دینا ہے اُلفت میں
کہیں مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ سے تنبیہ فرمائینہیں کوئی شریک اس ذاتِ اقدس کا شفاعت میں
وہ ربِّ العٰلمیں کے، رحمت لّلعالمیں ہو کربتایا میں ہوں جس کا رب وہ سب ہے اُن کی رحمت میں
وسیلہ ہم کو ایسا مِل گیا بُرہانؔ محشر میںیہ ہمّت ہے کہ بے باکانہ جائینگے قیامت میں