سودائے عِشق سرورِ دیں یوں ہو سرفرازمیرا سرِ نیاز ہو دیوار و در نواز
ہر آہ پر ہے گنبدِ خضریٰ نظر نوازاے اضطرابِ دید یونہی عمر بھر نواز
ہر صبح ان کے شہر کی شامِ بہشت ہےہر رات ہے دیارِ نبیﷺ کی سحر نواز
کعبہ کسی کا عرشِ بریں ہے کسی کا نامہیں اِس قدر کچھ ان کے قدم رہگذر نواز
اے نامِ مصطفیٰﷺ تِری عظمت کے میں نثارتیرے طفیل میری دعا ہے اثر نواز
دنیا کو کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتاہوتے جو تم نہ یُوں پسِ پردہ نظر نواز
اختؔر مدام اُن پر درود و سلام ہوجن کے فراق کی ہے خلش بھی جگر نواز