سوادِ شب میں ملے، مطلعِ سحر میں ملےتم اے جمالِ خدا شمس میں قمر میں ملے
گدا نوازئ محبوب اور کیا ہوگیوہ دیکھنے سے بھی پہلے مجھے نظر میں ملے
ہے ایک جاں سے قریں اک رگِ گلو کے قریبتلاش جن کی تھی باہر، مجھے وہ گھر میں ملے
تھی قدسیوں کی جبیں کی چمک دمک جن میںنشان ایسے بھی طیبہ کی رہگذر میں ملے
تلاشِ منزلِ اوجِ نبیﷺ بھی کیا شَے ہےشریک آدم و عیسٰی بھی اس سفر میں ملے
جو آپ عین خبر ہے وہ مبتدا تم ہووہ تم خبر ہو کہ خود مبتدا خبر میں ملے
وہ خارِ دشتِ حرم لے اُڑے ہوا جس کوالہٰی کاش وہ میرے دل و جگر میں ملے
ہے اب حضورﷺ کا در اور اختؔر سائلبھلا کسی سے طلب کیوں کروں جو گھر میں ملے