سلطانِ رسلﷺ سے تابہ خدا، اللہ سے تا سلطانِ رسلﷺایسی بھی ہے منزل صرف جہاں اللہ ہے یا سلطانِ رسلﷺ
لو وہ لبِ کوثر آپہنچے اے صلِّ علٰی سلطانِ رسلﷺوہ دوڑ پڑے رندانِ حرم کہتے ہوئے یا سلطانِ رسلﷺ
کونین کے ذرّے ذرے میں ہے نور کا عالم کیا کہناہیں یوسفِ بزمِ کن فیکون نو شاہِ دنیٰ سلطانِ رسلﷺ
مانا کہ خلیل اللہ بھی ہیں، نبیوں میں کلیم اللہ بھی ہیںہیں آپ مگر اے صلِّ علیٰ محبوبِ خدا سلطانِ رسلﷺ
وہ جھوم کے برسیں رحمت کی گھنگور گھٹائیں محشر میںوہ دوش پہ آئے کھولے ہوئے گیسوئے دوتا سلطانِ رسلﷺ
یہ نقطۂ سرِّ وحدت ہیں، یہ مرکزِ دورِ کثرت ہیںخالق ہے جہاں موجود، وہاں ہیں جلوہ نما سلطانِ رسلﷺ
کس طرح سکوں پائے گا جنوں، دیوانوں کا عالم کیا ہوگاجنت میں اگر پائی نہ تِرے کوچے کی ہوا سلطانِ رسلﷺ
واللہ تمھاری ذات سے ہے تابندہ چراغِ لم یَزَلیاے ماہِ مبیں! اے آئینۂ اللہ نما سلطانِ رسلﷺ
فیضانِ ضیؔا سے اختؔر کا دل طُورِ جمال نعت رہےتا دیر تجلّی پاش رہیں انوارِ ضیؔا سلطانِ رسلﷺ