عیدِ نُور
ساقی مجھے وہ بادۂ کیف و سرور دےدے حسن جو دماغ کو اور دل کو نور دےروشن ہو جس سے ذہن وہ جامِ شعور دےکوثر کی روح آج مِلا کر ضرور دےمستی سی روح و قلب پہ چھائی ہوئی رہےتا عمر جس کیف میں گم زندگی رہےاُٹھی گھٹا وہ کعبہ کے پردوں سے جُھوم کروہ چھاگئی فلک پہ فضائیں گئیں نِکھرہے سرمدی سُرور کی بارش جہان پرلا ایک جام اور پلا، ایک اور بھررِندوں کی آج عید ہے ، مستوں کی عید ہےساقی حرم کے بادہ پر ستوں کی عید ہےلاوارثوں کی عید، یتیموں کی عید ہےٹوٹے دلوں کی، تیرہ نصیبوں کی عید ہےمایوس و ناامید، غریبوں کی عید ہےبیمار، بیکسوں کی، ضعیفوں کی عید ہےہے فیضیابِ رحمتِ پروردگار عیدیہ عید وہ ہے جس پہ تصدق ہزار عیدجنت کا ہے جواب گلستاں بنا ہواہے چاندنی کا فرش چمن میں بچھا ہواغنچوں کا آبِ نور سے منہ ہے دُھلا ہواہے عطرِ روحِ حُسن میں گُل بسا ہواہے سامنے نگاہ کے نقشہ بہشت کاہوتا ہے صحنِ باغ پہ دھوکا بہشت کاگم ہے سیاہ دَور، زمانہ ہے نور کاعالَم تمام آج خزانہ ہے نور کاپھر بلبلوں کے لب پہ ترانہ ہے نور کاباہم دِگر زباں پہ فسانہ ہے نور کانوری سماں ہے عالَمِ صد کیف و نور ہےکل کائنات غرقِ شرابِ سرور ہےتاریکیوں کا دَور دلِ مضمحل گیاچمکا نصیب گوہرِ مقصود مِل گیاملّت کے دل کا غنچۂ افسردہ کِھل گیاہستی کا چاک دامنِ امید سل گیاوہ نورِ چشمِ آمنۂ پاکﷺ آگئےدنیا میں آج سیّد ِ لولاکﷺ آگئےظلمت کدوں کو دہر کے اِک روشنی ملیہر مضمحل نگاہ کو تابندگی ملیبیمار زندگی کو نئی زندگی مِلیغم خوردہ و شکستہ دلوں کو خوشی ملیفیضِ جمالِ ماہِ عرب آج عام ہےمسرور و شاد کام زمانہ تمام ہےدورِ سرور و کیف کی جلوہ گری ہوئیکِشتِ امید سُوکھ چکی تھی، ہری ہوئیزندہ ہے پھر ہر ایک تمنّا مَری ہوئیہے آج ہر فقیر کی جھولی بھری ہوئیجاگے نصیب، روز مِلا عیدِ نور کاصدقہ ہے یہ ولادتِ پاکِ حضورﷺ کاسورج میں ‘ ماہتاب میں ‘ تاروں میں روشنیگلزار میں، گلوں میں، بہاروں میں روشنیقدرت کے دلنواز اشاروں میں روشنیپھر آگئی تمام نظاروں میں روشنیمنظر نظر نواز، سماں بے نظیر ہےروشن چراغِ حسنِ سراجِ منیر ہےعہدِ سکوں و مہبطِ راحت ہے کائناتجلوہ گہِ خلوص و محبت ہے کائناتمیخانۂ نشاط و مسرّت ہے کائناتہر خاص و عام کے لئے جنت ہے، کائناتاب سلطنت ہے صاحبِ خلقِ عظیم کیمحبوبِ حق، جنابِ رؤف و رحیمﷺ کیاللہ کے رسولﷺ، رسالت کا واسطہاے تاجدار، تاجِ شفاعت کا واسطہمحبوبِ حق، نگاہِ محبت کا واسطہسرکار، روزِ عیدِ ولادت کا واسطہصدقہ رضؔا کا آج جو مانگوں وہی ملےاختؔر کو اپنی کھوئی ہوئی زندگی ملے